خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 34

خطبات مسرور جلد 11 34 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2013ء کہ زندہ قومیں اور ترقی کرنے والی جماعتیں ان احساسات، ان خیالات ، ان جذبوں اور ان عہد پورا کرنے کی پابندیوں کو کبھی مرنے نہیں دیتیں۔ان جذبوں کو تروتازہ رکھنے کے لئے ہمیشہ ان باتوں کی جگالی کرتی رہتی ہیں۔اگر کہیں ستیاں پیدا ہو رہی ہوں تو اُن کو دور کرنے کے لئے لائحہ عمل بھی ترتیب دیتی ہیں۔اور خلافت کے منصب کا تو کام ہی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم بگیر “ پر عمل کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً یاد دہانی کروا تار ہے تا کہ جماعت کی ترقی کی رفتار میں کبھی کمی نہ آئے۔اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ایک کے بعد دوسرا گروہ تیار ہوتا چلا جائے۔جس طرح مسلسل چلنے والی نہریں، زمین کی ہریالی کا باعث بنتی ہیں اسی طرح ایک کے بعد دوسرا دین کی خدمت کرنے والا گروہ روحانی ہریالی کا باعث بنتا ہے۔جن علاقوں میں کھیتوں میں ٹیوب ویلوں یا نہروں کے ذریعوں سے کاشت کی جاتی ہے وہاں کے زمیندار جانتے ہیں کہ اگر ایک کھیت پر پانی مکمل لگنے سے پہلے پانی کا بہاؤ ٹوٹ جائے ، پیچھے سے بند ہو جائے تو پھر نئے سرے سے پورے کھیت کو پانی لگانا پڑتا ہے اور پھر وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور پانی بھی۔اسی طرح اگر اصلاح اور ارشاد کے کام کے لئے مسلسل کوشش نہ ہو، یا کوشش کرنے والے مہیا نہ ہوں تو پھر ٹوٹ ٹوٹ کر جو پانی پہنچتا ہے، جو پیغام پہنچتا ہے، جو کوشش ہوتی ہے وہ سیرابی میں دیر کر دیتی ہے۔تربیتی اور تبلیغی کاموں میں روکیں پیدا ہوتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر قوم میں سے ایسے گروہ ہر وقت تیار رہنے چاہئیں جو خدا تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کے بہاؤ کو بھی ٹوٹنے نہ دیں۔پس اس لئے میں آج پھر اس بات کی یاددہانی کروارہا ہوں کہ حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے وقف کو کی جو سکیم شروع فرمائی تھی تو اس امید پر اور اس دعا کے ساتھ کہ دین کی خدمت کرنے والوں کا گروہ ہر وقت مہیا ہوتا رہے گا۔یہ پانی کا بہاؤ کبھی ٹوٹے گا نہیں۔جماعت کے لٹریچر کا ترجمہ کرنے والے بھی جماعت کو مہیا ہوتے رہیں گے۔تبلیغ اور تربیت کا کام چلانے والے بھی بڑی تعداد میں مہیا ہوتے رہیں گے اور نظام جماعت کے چلانے کے دوسرے شعبوں کو بھی واقفین کے گروہ مہیا ہوتے رہیں گے۔پس اس بات کو ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ماں باپ کو اپنے بچوں کو پیش کرنے کے بعد اپنے فرض سے فارغ نہیں ہو جانا چاہئے۔بیشک بچوں کو واقفین ٹو میں پیش کرنے کا جذبہ قابل تعریف ہے۔ہر سال ہزاروں بچوں کو واقفین کو میں پیش کرنے کی درخواستیں آتی ہیں لیکن ان درخواستوں کے پیش کرنے کے بعد ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ان بچوں کو اس خاص مقصد کے لئے تیار کرنا جو دنیا کو ہلاکت سے بچانے کا مقصد ہے، اس کی تیاری کے لئے سب سے