خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 33

خطبات مسرور جلد 11 33 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2013ء ہے جس کا حق ادا کرنے کے لئے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے سے جماعت احمدیہ کا قیام فرمایا۔یہی وہ جماعت ہے جس میں بچے کی پیدائش سے پہلے ماؤں کی دعائیں بھی ہمیں صرف اس جذبے کے ساتھ نظر آتی ہیں، اس جذبے کو لئے ہوئے نظر آتی ہیں کہ رَبّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرِّرًا فَتَقَبَّلْ مِلنى (آل عمران : 36)۔اے میرے رب! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے، تیری نذر کرتی ہوں۔آزاد کرتے ہوئے (یعنی دنیا کے جھمیلوں سے آزاد کرتے ہوئے) پس تو اسے قبول فرما۔آج آپ نظر دوڑا کر دیکھ لیں ، سوائے جماعت احمدیہ کی ماؤں کے کوئی اس جذ بے سے بچے کی پیدائش سے پہلے اپنے بچوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے پیش کرنے کی دعا نہیں کرتے۔کوئی ماں آج احمدی ماں کے علاوہ ہمیں نہیں ملے گی جو یہ جذبہ رکھتی ہو، چاہے وہ ماں پاکستان کی رہنے والی ہے، یا ہندوستان کی ہے، یا ایشیا کے کسی ملک کی رہنے والی ہے یا افریقہ کی ہے، یورپ کی رہنے والی ہے یا امریکہ کی ہے۔آسٹریلیا کی رہنے والی ہے یا جزائر کی ہے۔جو اس ایک اہم مقصد کے لئے اپنے بچوں کو خلیفہ وقت کو پیش کر کے پھر خدا تعالیٰ سے یہ دعانہ کر رہی ہو کہ اے اللہ تعالیٰ ! ہمارا یہ وقف قبول فرمالے۔یہ دعا کرنے والی تمام دنیا میں صرف اور صرف احمدی عورت نظر آتی ہے۔اُن کو یہ فکر ہوتی ہے کہ خلیفہ وقت کہیں ہماری درخواست کا انکار نہ کر دے اور یہ صورت کہیں اور پیدا ہو بھی نہیں سکتی۔یہ جذ بہ کہیں اور پیدا ہو بھی نہیں سکتا۔کیونکہ خلافت کے سائے تلے رہنے والی یہی ایک جماعت ہے جس کو خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے ذریعہ سے قائم فرمایا ہے اور پھر اس پر بس نہیں، جماعت احمدیہ میں ہی وہ باپ بھی ہیں جو اپنے بچوں کی اس نہج پر تربیت کرتے ہیں کہ بچہ جوانی میں قدم رکھ کر ہر قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے اور خلیفہ وقت کو لکھتا ہے کہ پہلا عہد میرے ماں باپ کا تھا ، دوسرا عہداب میرا ہے۔آپ جہاں چاہیں مجھے قربانی کے لئے بھیج دیں۔آپ مجھے ہمیشہ صبر کرنے والوں اور استقامت دکھانے والوں میں پائیں گے اور اپنے ماں باپ کے عہد سے پیچھے نہ ہٹنے والوں میں پائیں گے۔یہ وہ بچے ہیں جو امت محمدیہ کے باوفا فرد کہلانے والے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہونے کا حق ادا کرنے والے ہیں۔ماں باپ کی تربیت اور بچے کی نیک فطرت نے انہیں حقوق اللہ کی ادائیگی کے بھی رموز سکھائے ہیں اور حقوق العباد کی ادائیگی کے بھی معیار سکھائے ہیں۔جنہیں دین کا فہم حاصل کرنے کا بھی شوق پیدا ہوا ہے اور اُسے اپنی زندگی پر لاگو کرنے کی طرف توجہ بھی پیدا ہوئی ہے اور پھر اس کے ساتھ تبلیغ اسلام اور خدمت انسانیت کے لئے ایک جوش اور جذ بہ بھی پیدا ہوا۔ہمیشہ یادرکھیں