خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 35
خطبات مسرور جلد 11 35 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2013ء پہلے ماں باپ کو کوشش کرنی ہوگی۔اپنا وقت دے کر، اپنے نمونے قائم کر کے بچوں کو سب سے پہلے خدا تعالیٰ سے جوڑ نا ہوگا۔بچوں کو نظام جماعت کی اہمیت اور اس کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہونے کے لئے بچپن سے ہی ایسی تربیت کرنی ہوگی کہ اُن کی کوئی اور دوسری سوچ ہی نہ ہو۔ہوش کی عمر میں آ کر جب بچے واقفین کو اور جماعتی پروگراموں میں حصہ لیں تو اُن کے دماغوں میں یہ راسخ ہو کہ انہوں نے صرف اور صرف دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا ہے۔زیادہ سے زیادہ بچوں کے دماغ میں ڈالیں کہ تمہاری زندگی کا مقصد دین کی تعلیم حاصل کرنا ہے۔یہ جو واقفین کو بچے ہیں ان کے دماغوں میں یہ ڈالنے کی ضرورت ہے کہ دین کی تعلیم کے لئے جو جماعتی دینی ادارے ہیں اُس میں جانا ضروری ہے۔جامعہ احمد یہ میں جانے والوں کی تعداد واقفین کو میں کافی زیادہ ہونی چاہئے۔لیکن جو اعداد و شمار میرے سامنے ہیں، اُن کے مطابق سوائے پاکستان کے تمام ملکوں میں یہ تعداد بہت تھوڑی ہے۔پاکستان میں تو اللہ کے فضل سے اس وقت ایک ہزار تینتیس واقفین کو جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہے ہیں۔اور انڈیا میں جو تعدا د سامنے آئی ہے وہ 93 ہے۔یہ میرا خیال ہے کہ شاید اس میں شعبہ وقف کو کو غلطی لگی ہو۔اس سے تو زیادہ ہونے چاہئیں۔بہر حال اگر اس میں غلطی ہے تو انڈیا کا جو شعبہ ہے وہ اطلاع دے کہ اس وقت جامعہ احمدیہ میں اُن کے واقفین کو میں سے کتنے طلباء پڑھ رہے ہیں۔جرمنی میں 70 ہیں۔یہ رپورٹ پچھلے جون تک ہے۔اب وہاں 80 سے زیادہ ہو چکے ہیں۔یہ صرف جرمنی کے نہیں ، اس میں یورپ کے مختلف ممالک کے بچے بھی شامل ہیں۔کینیڈا کے جامعہ احمدیہ میں 55 ہیں۔اب اس میں کچھ تھوڑی سی تعداد شاید بڑھ گئی ہو۔اس میں امریکہ کے بھی شامل ہیں۔یو کے کے جامعہ میں گزشتہ رپورٹ میں 120 تھے۔شاید اس میں دس پندرہ کی کچھ تعداد بڑھ گئی ہو۔یہاں بھی یورپ کے دوسرے ممالک سے بچے آتے ہیں۔گھانا میں 12 ہے، یہ شاید وہاں جو نیا جامعہ شاہد کروانے کے لئے شروع ہوا ہے، اُس کی تعداد انہوں نے دی ہے۔اسی طرح بنگلہ دیش میں 23 ہیں۔اور یہ گل تعداد جواب تک دفتر کے شعبہ کے علم میں ہے، وہ 1400 ہے۔جبکہ واقفین ٹولڑکوں کی تعداد تقریباً اٹھائیس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ہمارے سامنے تو تمام دنیا کا میدان ہے۔ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، جزائر ، ہر جگہ ہم نے پہنچنا ہے۔ہر جگہ ہر براعظم میں نہیں، ہر ملک میں نہیں ، ہر شہر میں نہیں بلکہ ہر قصبہ میں، ہر گاؤں میں، دنیا کے ہر فرد تک اسلام کے خوبصورت پیغام کو پہنچانا ہے۔اس کے لئے چند ایک مبلغین کام کو انجام نہیں دے سکتے۔بچوں میں وقف کو ہونے کی جو خوشی ہوتی ہے بچپن میں تو اُس کا اظہار بہت ہو رہا ہوتا ہے۔لیکن