خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 392 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 392

خطبات مسرور جلد 11 392 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء قرآنی ارشاد کے خلاف ہے کیونکہ مقصد تو تقویٰ کا حصول ہے۔پس فرمایا کہ اگر روزہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے رکھا ہے تو پھر جتنا بھی روزے کا وقت ہے یہ بھی ذکر الہی میں گزارو۔ایک دوسری جگہ آپ نے فرمایا کہ بھوکے پیاسے رہنے سے تو بعض جو گیوں میں بھی ایسی حالت پیدا ہو جاتی ہے کہ اُن کو بھی کشف ہو جاتے ہیں لیکن یہ ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد نہیں ہے۔ایک مومن کی زندگی کا مقصد تبتل اور انقطاع ہے اور یہ عبادت سے، ذکر الہی سے پیدا ہوتا ہے اور نمازیں اس کا بہترین ذریعہ ہیں جو روح پر اثر ڈالتی ہیں، جو خدا تعالیٰ کے قرب کا باعث بنتی ہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 696-697 مطبوعہ ربوہ ) پس اصل روزہ وہ ہے جس میں خوراک کی کمی کے ساتھ ایک وقت تک جائز چیزوں سے بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے رُکے رہنا ہے۔یہ تقویٰ ہے اور ان چیزوں سے رکے رہ کر صرف دنیاوی کاموں اور کاروباروں میں ہی وقت نہیں گزارنا بلکہ نمازوں اور ذکر الہی کی طرف پوری توجہ دینی ہے۔نماز میں اگر پہلے جمع کرتے تھے یا بعض دفعہ قضا ہو جاتی تھیں تو ان دنوں میں اس طرف خاص توجہ کہ ذکر الہی اور عبادت ہر دوسری چیز پر مقدم ہو جائے۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف توجہ ہو۔اور ہم الحمد للہ جو کہتے ہیں تو یہ صرف منہ سے ہی نہ ہو بلکہ آپ نے اس طرف ہماری توجہ دلائی کہ جب الحمدُ لله کہو تو ہمیشہ یہ بات مد نظر رکھو کہ حمد صرف رب جلیل سے مخصوص ہے۔یہ ذہن میں ہو کہ ہر قسم کی حمد خدا تعالیٰ کی ذات کے لئے ہے اور اُس کی طرف ہی حمد لوتی ہے۔ہم اُس خدا کی حمد کرتے ہیں جو گمراہوں کو ہدایت دینے والا ہے۔پس اگر ہم سارا سال خدا کی طرف اُس طرح نہیں جھکے جو اُس کا حق ہے تو اس مہینہ میں ہمیں یہ ہدایت دے تا کہ اس ہدایت کے ذریعہ ہم آئندہ گمراہی سے بھی بچیں اور حمد کے فیض سے فیضیاب ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والے بھی ہوں۔آپ علیہ السلام نے اس طرف بھی رہنمائی فرمائی کہ حمد کرتے وقت یہ سامنے ہو کہ ہر عزت خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔پس اس رمضان میں ہمیں یہ دعا بھی کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ وہ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اُس کا قرب دلانے والی ہوں۔اور دنیا کی عزت اور تفاخر کی طرف ہم جھکنے والے نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے یہ بھی خیال رہنا چاہئے کہ ہمیشہ ہمارا انحصار خدا تعالیٰ کی ذات پر ہوگا، کسی دنیاوی سہارے پر نہیں ہوگا۔