خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 391 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 391

خطبات مسرور جلد 11 391 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء بڑھنے سے بیماریوں کے علاج ہوتے ہیں۔لیکن وہاں کفارہ کے نظریہ نے روزے کی روح جو تقویٰ کا حصول ہے، اُسے ختم کر دیا ہے۔پس جب تقویٰ کا حصول ہی نہیں تو روزے کے فیض کی اہمیت ہی ختم ہو گئی۔اور جب فیض ہی نہیں تو پھر روزے کا صرف نام رہ گیا۔یہ نام کا روزہ ہے۔پھر کچھی اور ابلی ہوئی سبزیوں سے پکے ہوئے گوشت کی طرف بھی ہاتھ بڑھ جاتے ہیں۔پس یہ اسلام کی خوبصورتی ہے، یہ قرآنِ کریم کی خوبصورتی ہے کہ نہ صرف تعلیم بتائی ، ایک حکم دیا بلکہ اُس کا مقصد بتایا اور اُس کے بدلے میں انعامات کی خبر بھی دی اور پھر اسلام کی تعلیم کو زندہ رکھنے کے لئے عملی نمونے قائم کرنے کے لئے مجددین اور اولیاء کا سلسلہ جاری رکھا اور پھر اس زمانے میں مسیح موعود اور مہدی معہود کا ظہور فرما کر مسلمانوں اور غیر مسلموں سب کے لئے اس تعلیم کی روح کو اُس کی اصلی حالت میں زندہ کرنے کے سامان مہیا فرما دیئے جنہوں نے قرآنی تعلیم کی روشنی میں تقویٰ پر چلنے کی بار بار تلقین فرمائی ہے، روزے کی روح کو سمجھنے کی طرف ہمیں توجہ دلائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : تیسری بات جو اسلام کا رکن ہے، وہ روزہ ہے۔روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے، بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اُسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قو تیں بڑھتی ہیں۔خدا تعالیٰ کا منشا اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ہمیشہ روزہ دار کو یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا ر ہے بلکہ اُسے چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تاکہ تبتل اور انقطاع حاصل ہو۔پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے، دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلی اور سیری کا باعث ہے۔اور جولوگ محض خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے ، انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 102 مطبوعہ ربوہ ) اس ارشاد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو فرمایا کہ جس قدر انسان کم کھاتا ہے اُسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے، تو اس سے خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ شاید بھوکا پیاسارہنا ہی تزکیۂ نفس ہے اس لئے آگے واضح فرما دیا کہ صرف بھوکا پیاسار ہنا تزکیہ نفس نہیں ، نہ اس سے روزے کا مقصد پورا ہوسکتا ہے۔یہ تو