خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 393

خطبات مسرور جلد 11 393 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کی طرف رمضان میں توجہ رکھو۔صرف سبحان اللہ کہہ دینا کافی نہیں ہے بلکہ جہاں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان ہو وہاں یہ دعا ہو اور درد سے دعا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی ہر قسم کی دنیاوی آلائشوں سے بھی پاک کر دے۔اور یہ رمضان ہمارے اندر حقیقی تقویٰ پیدا کرنے والا بن جائے۔پھر فر ما یا تہلیل کرو۔اپنی دعائیں اس یقین کے ساتھ کرو کہ عبادت کے لائق ذات صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اگر ہمیں کوئی کسی قسم کے نقصان سے بچا سکتا ہے تو وہ صرف خدا تعالیٰ ہے۔جب ہمیں کسی سہارے کی ضرورت ہو تو خدا تعالیٰ کا سہارا ہم نے لینا ہے اور انسان کو ہر وقت خدا تعالیٰ کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے اس معبود حقیقی کی طرف ہر وقت جھکا رہنے کی کوشش ہو۔رمضان میں روزوں کے ساتھ یہ دعا کرے کہ خدا تعالیٰ تو ہمیشہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھنا۔اے اللہ ! روزوں کے ساتھ جو تبدیلیاں تو نے روزوں سے فیض پانے والوں کے لئے مقدر کی ہوئی ہیں اُن سے ہمیں بھی حصہ دے اور ایسا یہ حصہ ہو جو تازندگی ہمیں فیضیاب کرتا رہے۔آپ نے فرمایا کہ تمہاری یہ حد تسبیح اور تہلیل ایسی ہے جو مبتل کی حالت پیدا کر دے۔اور متبتل الی اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر قسم کی دنیاوی خواہشات سے علیحدہ کر لینا۔خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل وفا کا تعلق پیدا کر لینا۔پھر فرمایا کہ انقطاع حاصل ہو۔یعنی تمام دنیا وی لہو و لعب سے اپنے آپ کو علیحدہ کر لو اور خدا تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ کرو۔جب یہ ہوگا تو وہ مقصد حاصل ہو گا جو خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ روزے دار تقویٰ حاصل کرنے والا ہوگا۔پس یہ رمضان جو دو دن سے شروع ہوا ہے اور انتیس تیس دن تک چلتا ہے تبھی ہمیں فائدہ دے سکتا ہے جب ہم اس مقصد کو اپنے سامنے رکھنے والے ہوں گے اور یہ مقصد اتنا بڑا ہے کہ اس کے لئے بہت محنت کی ضرورت ہے۔اپنے روزے کا حق ادا کرنے کی بھی ضرورت ہے اورا اپنی دوسری عبادتوں کا حق ادا کرنے کی بھی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ان سب کی مشتر کہ ادائیگی کا نام ہی تقویٰ ہے۔ہمیں یا درکھنا چاہئے کہ جیسا کہ میں نے دوست کا واقعہ بیان کیا ہے، پہلوں نے دین پر عمل چھوڑ دیا، خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی پابندیوں کو جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے تھیں چھوڑ کر ظاہری دنیاوی اخلاق کو اہمیت دی۔جو روزے جس حالت میں اُن پر فرض کئے گئے تھے یا روزوں کی فرضیت اور روزے رکھنے کا طریق جس حالت میں اُن تک پہنچا تھا اُس کی روح کو بھی چھوڑ دیا۔تو روزہ جو ایک عبادت ہے اور