خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 390 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 390

خطبات مسرور جلد 11 390 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء گزشتہ دنوں مجھے ایسے ہی ایک روزہ دار کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ہمارے ایک عیسائی دوست ہیں اُن کا نام لینے کا تو سوال نہیں لیکن ملک کا نام بھی لینے کی ضرورت نہیں ہے۔بہر حال یہ دوست ایک دعوت میں میرے قریب بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے دیکھا کہ کھانے کی پلیٹ اُن کے سامنے نہیں آئی، کیونکہ کھانا پلیٹوں میں سرو (serve) ہو رہا تھا، ڈال کے دیا جا رہا تھا۔میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ نہیں کھائیں گے؟ کہنے لگے میرا روزہ ہے۔تو خیر میں اُن کے روزے کے احترام میں خاموش ہو گیا۔حیرت بھی ہوئی کہ دنیا دار ہیں، سیاسی آدمی ہیں، پھر بھی دین پر عمل ہے۔تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا تو سبزی وغیرہ اُن کے سامنے پڑی ہوئی تھی ، چاول بھی تھے۔تو میں نے کہا کہ آپ کے روزے میں سبزی چاول وغیرہ تو آپ کھا سکتے ہیں؟ کہنے لگے ہاں کھانے لگا ہوں۔خیر انہوں نے کھانا شروع کر دیا۔اُس کے بعد ہمارے سامنے ڈشوں میں چکن وغیرہ بھی آنے لگا۔ہم نے ڈال کر کھانا شروع کیا۔تھوڑی دیر کے بعد جب اُن کی پلیٹ پر نظر پڑی تو وہاں اُن میں گوشت بھی پڑا ہوا تھا۔تو اُن سے پوچھا کہ روزے میں یہ مرغی کا گوشت کھانے کی آپ کو اجازت ہے؟ بے تکلفی تھی تو میں نے پوچھ لیا۔ہنس کے کہنے لگے کہ سرو (serve) کرنے والے بار بار آ رہے تھے اور مرغی کے سالن کا ڈش میرے پاس لا رہے تھے تو میرا دین یہ بھی کہتا ہے کہ اگر میز بان تمہیں کچھ کھلائے تو کھا لو۔اس لئے میں کھا رہا ہوں۔تو یہ اُن پرانے دینوں پر عمل کرنے والوں کی روزے کی حالت ہے۔سب کھا رہے تھے ، گوشت تھا، مزیدار تھا، جب اردگر دلوگوں کو کھاتے دیکھا تو سرو (serve) کرنے والے جو شاید دومختلف آدمی تھے ، ایک کو اظہار کیا ہو گا، لیکن اگلے سے لے لیا۔اخلاقاً لے بھی لیا اور پھر کھانا بھی شروع کر دیا۔تو اخلاق دینی حکم پر غالب آگئے۔اس لئے کہ دینی احکام بتانے والی کتب میں واضح نہیں ہے، لیکن قرآنِ کریم کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا ، اب تک اپنی اصلی حالت میں ہے اور مومنین کو حکم ہے کہ صرف انبیاء کے روزوں کا ذکر نہیں کیا گیا، صرف بزرگوں کے روزوں کی باتیں نہیں ہیں ، بلکہ مومنین کو فرمایا کہ اگر تم مومن ہو تو روزہ تم پر فرض ہے۔ایک مہینے کے لئے فرض ہے۔ہر قسم کے کھانے پینے سے صبح سے شام تک پر ہیز ضروری ہے۔اور اس سے مومنین نے حاصل کیا کرنا ہے؟ فرمایا تمہیں تقویٰ حاصل کرنا ہے۔تمہیں تقویٰ میں ترقی کرنی ہے۔تم نے روزے سے خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول کرنا ہے۔بیشک بائبل میں بھی حواریوں کو خدا کی رضا کے لئے روزے رکھنے کا حکم ہے، نہ کہ دکھاوے کے لئے۔پھر یہ بھی ہے کہ روزے سے روحانیت بڑھتی ہے تو اُس روحانیت کے