خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 389

خطبات مسرور جلد 11 389 28 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرز امسر وراحمدخلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء بمطابق 12 وفا 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: 184) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے اُسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے گل سے یہاں رمضان شروع ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ ہمیں رمضان کے ایک اور مہینے سے گزرنے کا موقع عطا فرما رہا ہے۔یہ آیت جو تلاوت کی گئی ہے اس میں خدا تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے روزوں کی اہمیت اور فرضیت کی طرف توجہ دلائی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تم سے پہلے جو انبیاء کی جماعتیں گزری ہیں اُن پر بھی روزے فرض تھے ، اس لئے کہ روزہ ایمان میں ترقی کے لئے ضروری ہے،روزہ روحانیت میں ترقی کے لئے ضروری ہے۔آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ چاہے اس وقت مختلف مذاہب میں روزہ اُس اصل حالت میں ہے جیسا کہ انبیاء کے وقت میں تھا یا زمانے کے ساتھ روزے کی حالت اور کیفیت بدل گئی ہے لیکن بہر حال کسی نہ کسی رنگ میں کسی نہ کسی حالت میں روزے کا تصور ہر جگہ قائم ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے روزوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام کے روزوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ہندوؤں میں بھی روزوں کا تصور ہے، چاہے وہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے پر ہیز ہو اور اُس کا روزہ ہو۔عیسائیوں میں بھی روزے کا تصور ہے۔بعض فرقے عیسائیوں کے ایسا بھی روزہ رکھتے ہیں کہ گوشت نہیں کھانا، سبزی وغیرہ جتنی چاہے کھالیں۔