خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 383
خطبات مسرور جلد 11 383 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 جولائی 2013ء آئے ہوئے تھے، انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے پوچھا کہ آپ پوپ سے ملیں گے؟ انہوں نے کہا ہاں ، میں نے ملنے کی خواہش کی تھی اور یہ اُس کا جواب ہے۔اخباری نمائندوں نے اسی طرح اپنے اخبار میں خبر لگادی کہ پوپ نے امام جماعت احمدیہ کو یہ جواب دیا ہے کہ میرا محل زیر تعمیر ہے اس لئے ملاقات مشکل ہے۔اور نیچے لکھ دیا کہ امید ہے احمدی خلیفہ سے ملنے سے بچنے کیلئے اُن کا مل کبھی تعمیر ہی نہیں ہوگا۔تو بہر حال ہمارا جو کام ہے ہم نے کئے جانا ہے۔پھر ایک احمدی ہیں اشیر علی صاحب قرغزستان سے آئے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے 2007ء میں بیعت کی تھی لیکن ہمارے پاس مسجد نہیں تو جماعت احمدیہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کی خواہش تھی۔وہ پہلے آ گئے تھے۔مساجد کے افتتاح میں بھی شامل ہوتے رہے۔یہاں آکر یہ بھی اللہ تعالیٰ نے خواہش پوری فرمائی۔پھر قاراقل اسماعیلو صاحب ہیں، یہ بھی یہاں رہے اور اپنی احمدیت کی قبولیت پر شکر گزاری کرتے رہے۔جلسے میں شمولیت پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے رہے۔نائیجر کے رہنے والے ایک دوست صالح بیچی بیلجیم میں رہتے ہیں ، جو مسلمان تھے، یہاں آئے۔کہتے ہیں کہ میں نے افریقہ میں بہت سے علماء کی تقریریں سنی ہیں لیکن وہ اثر اور فائدہ جو مجھے خلیفہ وقت کی تقریر سن کر ہوا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔اور میں نے اس جماعت کو بڑے قریب سے دیکھا ہے اور میں نے اس جلسہ پر احمدیت میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی۔اسی طرح ایک مراکشی دوست جموعی توفیق صاحب تھے۔کہتے ہیں کہ میں نے دوسرے تقلیدی مسلمانوں کی تفاسیر بھی پڑھی ہیں اور جماعت احمدیہ کی لکھی ہوئی تفاسیر بھی پڑھی ہیں۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اصل تفاسیر وہی ہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفائے احمدیت کی لکھی ہوئی ہیں۔اور مختلف مسائل ان کے حل ہوتے رہے۔کہتے ہیں کہ مجھے تو پورا اطمینان تھا۔میں نے احمدیت قبول کر لی اور یہاں جلسہ پر آ کے میرے بیوی بچوں نے بھی بیعت کر لی ہے۔نائیجر کے ایک اور دوست ہیں، یہ بھی مسلمان تھے۔کہتے ہیں: میں ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ اگر کوئی نبی زندہ رہنے والا ہے تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہنے چاہئیں ، نہ کہ عیسی علیہ السلام۔یہاں تجسیم آ کے احمدیوں سے رابطہ ہوا تو میرا یہ مسئلہ حل ہو گیا۔اور پھر اس کے بعد میں نے اپنے دوستوں سے ذکر کیا، انہوں نے بھی کہا کہ جماعت تو سچی لگتی ہے۔پھر مجھے خلافت اور اُس کی برکات کا مسئلہ جلد ہی بیلی