خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 384 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 384

خطبات مسرور جلد 11 384 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 جولائی 2013ء سمجھ آ گیا۔میں اس جماعت کو پاکر جس کا ایک امام اور ایک خلیفہ ہے بہت خوش ہوا۔کیونکہ اسلام نے تب تک ہی ترقی کی جب تک ان میں خلافت رہی۔کہتے ہیں مجھے اس جماعت میں جو سب سے اچھی بات لگی وہ یہ ہے کہ جماعت ہمیشہ جو بات پیش کرتی ہے اُس بات کی تائید میں ہمیشہ قرآن اور حدیث کا حوالہ دیتی ہے۔پہلے بیعت نہیں کی تھی ، آخری دن پھر انہوں نے بھی بیعت کر لی۔پھر بالحماتُو و صاحب ہیں، یہ بھی قرغزستان کے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ پہلے میں سوچا کرتا تھا کبھی خلیفہ وقت سے ملاقات ہوگی کہ نہیں۔یہ پہلے سے احمدی تھے اور پھر جو سب کچھ میں نے دیکھا تو اب میرا ایمان مزید مضبوط ہوا ہے۔قرغزستان کے احمدیوں کے لئے بھی بہت دعا کریں، اُن کے بھی حالات آجکل کافی سخت ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کی مشکلات کو دور فرمائے۔اور یہ نام نہاد ملاں جنہوں نے وہاں فساد کھڑا کیا ہوا ہے اللہ ان کو یا عقل دے یا خود پکڑ کا سامان کرے۔ایک نو مبائع لبنانی ہیں، اُس نے بتایا کہ ایک دن میرا ایک تیرہ سال کا بچہ مجھے کہنے لگا کہ آپ ہر وقت ہمیں آخری زمانے کے فتنوں سے ڈراتے رہتے ہیں، یہ تو بتائیں کہ یہ آخری زمانہ کب آئے گا ؟ میں نے جواب دیا کہ اس زمانے میں تو شاید ابھی سینکڑوں سال رہتے ہیں۔میرے بیٹے نے جواب دیا کہ یہ بات درست نہیں ہے بلکہ ہم آخری زمانے میں ہی رہ رہے ہیں۔(یہ بارہ تیرہ سال کا بچہ اُن کو کہہ رہا ہے )۔پھر بچے نے اُس کو کہا کہ آپ دجال کے بارے میں کہتے رہتے ہیں کہ وہ ایک عجیب الخلقت شخص ہوگا، یہ بھی درست نہیں ہے، کیونکہ دجال کسی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ اس سے مراد ایک قوم ہے اور ایسا دجال ظاہر ہو چکا ہے۔لہذا ہم دجال کے زمانے میں ہی رہ رہے ہیں۔کہتے ہیں یہ سن کر میں سخت حیران ہوا اور اُس سے پوچھا تمہیں یہ معلومات کہاں سے ملی ہیں۔تو اُس نے کہا کہ مختلف ٹی وی چینلز دیکھنے کے دوران ایک دن میں نے ایم ٹی اے کی جرمن نشریات دیکھی ہیں اور اُس کے بعد میں مسلسل وہ دیکھتا ہوں اور یہ معلومات مجھے وہاں سے ملی ہیں۔باپ کہتا ہے کہ چونکہ مجھے جرمن نہیں آتی تھی اس لئے میں اکثر اپنے بچے سے کہتا اچھا مجھے پروگرام سناؤ اور ترجمہ کر کے بتاؤ اور میری اس سے بحث ہوتی رہتی تھی۔بہر حال کہتے ہیں مجھے اس پر ایک دن بڑا غصہ آیا اور میں نے کہا خبردار جو تم نے آج کے بعد اس چینل کو دیکھا۔لیکن باپ کہنے لگا کہ اندر ہی اندر بیٹے کی باتوں میں معقولیت دکھائی دی۔پھر میں نے اپنے طور پر جماعت کے بارے میں لوگوں سے پوچھنا شروع کیا تو شکر ہے کہ اتفاق سے دو پاکستانی احمدی ان کو مل گئے۔اور پھر مجھے