خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 382
خطبات مسرور جلد 11 382 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 جولائی 2013ء اسلام کے بارے میں منفی خیالات تھے جو کہ مکمل طور پر بدل گئے ہیں۔میں نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ مذاہب کے مابین بہت ساری باتیں مشترک ہیں۔مثلاً خدا کا تصور، خدا کی رحمتیں وغیرہ۔پھر یہ کہتے ہیں کہ میرے ذہن میں ایک الجھن تھی کہ لوگ تالیوں کے بجائے نعرے کیوں لگا رہے ہیں؟ تالیوں سے خوشی کا اظہار ہونا چاہئے۔اس الجھن کا نہایت خوش اسلوبی سے امام جماعت نے مجھے جواب دیا، میرے سے ان کی باتیں بھی ہوئی تھیں) اور یہ کہہ کر تسلی بخش جواب دیا کہ تالیاں خوشی کے اظہار کے لئے ضرور ہیں مگر نعروں میں خوشی کا اظہار بھی ہے اور خدا تعالیٰ کی حمد و ثنا بھی ہے۔مارک ماؤنٹ بیلو (Mark Montebello)، یہ ایک عیسائی پادری ہیں اور یو نیورسٹی آف مالٹا میں فلاسفی پڑھاتے ہیں۔اس کے علاوہ مقامی اخبارات میں مضامین بھی لکھتے ہیں۔وہاں نقاد پادری کے طور پر جانے جاتے ہیں۔چرچ کی بعض پالیسیوں پر بھی آزادانہ رائے پیش کرتے رہتے ہیں۔چرچ کی بعض پالیسیوں سے اختلاف بھی رکھتے ہیں اور میڈ یا وغیرہ پر اظہار کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے اسلامی اصول کی فلاسفی کتاب پڑھی تھی اور خلیفہ امسیح الرابع کی کتاب Islam's response to" "contemporary issues پڑھی تھی۔پھر انہوں نے مسیح ہندوستان میں“ پڑھی۔کہتے ہیں کہ جلسہ میں شمولیت سے جماعت سے متعلق ہمارے مثبت تاثرات میں اضافہ ہوا ہے۔اور اب ہم اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ جماعت احمد یہ ایک نہایت امن پسند جماعت ہے۔اور انہوں نے وہاں سے آليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدہ “ کی انگوٹھی بھی خریدی اور پہلے اس کے معنی پوچھے کہ کیا معنی ہیں ؟ کہتے ہیں یہ تو ایسی عبارت ہے جس کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا چاہئے۔میرے سے ان کی ملاقات بھی ہوئی۔پوپ کے بارے میں سوالات کرتے رہے کہ آپ نے ان سے کبھی کوئی رابطہ کیا۔میں نے کہا ہم نے ایک دفعہ رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی ، رابطہ تو نہیں ہوا تھا لیکن بہر حال اُن کو میں نے دنیا کے امن کے بارے میں خط لکھا تھا تو باوجود اس کے کہ دستی خط اُن کو دیا گیا تھا انہوں نے اس کو acknowledge تک نہیں کیا۔اس پر مایوسی سے بیچارے مسکرا کے رہ گئے۔اس بارے میں ایک پرانا واقعہ بھی بتادوں، حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب مسجد فضل کی بنیا درکھی تو میرا خیال ہے کہ شروع میں انہوں نے ایک وقت جب دورہ کیا تھا تو اٹلی بھی گئے تھے۔وہاں پوپ سے رابطے کی کوشش کی گئی اور جب رابطہ کیا تو پوپ نے جواب دیا کہ میرا جو حل ہے وہ ابھی زیر تعمیر ہے، مرمتیں ہو رہی ہیں اس لئے ملاقات مشکل ہے۔اخباری نمائندے، پریس والے وہاں