خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 381 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 381

خطبات مسرور جلد 11 381 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 جولائی 2013ء خلیفہ کی تقریر سن کر بہت خوشی محسوس ہوئی کیونکہ انہوں نے اختصار کے ساتھ مگر نہایت وضاحت سے بیان کر دیا کہ اسلام کا نظریہ کیا ہے؟ اور اسلام کی تعلیم کیا سبق دیتی ہے؟ میں اپنے عیسائیوں سے بھی ایسے ہی واضح اور سیدھی بات سنا چاہتا ہوں لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا۔اور ہم بہت ہی کم ہیں جو بالکل واضح اور سیدھی بات کر سکتے ہیں۔ایک خاتون نے کہا کہ مجھے یہاں آ کر نئی باتیں سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔بہت سی باتوں کا جن کے بارے میں میں بجھتی تھی کہ مجھے علم ہے، اُن کا مجھے یہاں آ کر نئے انداز سے پتہ چلا ہے۔اور کہتی ہیں میں نے خلیفہ کے خطاب سے بہت کچھ سنا اور بہت متاثر ہوئی۔انہوں نے پیچیدہ اور مشکل موضوعات کے بارے میں بات کی۔ایسے موضوعات کے بارے میں بیان کیا جن کے بارے میں تھیولوجین (Theologian) بہت سی کتابیں لکھ دیتے ہیں تا کہ ان کو سمجھا جاسکے۔لیکن انہوں نے یہ ساری باتیں بہت ہی آسان طریق سے اور انتہائی پیارے انداز کے ساتھ بیان کر دیں اور اس کا معیار بھی ایک ہی رکھا تا کہ سب سمجھ سکیں۔خلیفہ نے اسلام کی تعلیم اور خدا تعالیٰ کے بارے میں اس طرح بیان کیا ہے کہ ہر شخص اُسے سمجھ سکتا تھا، کسی قسم کی کوئی غلط فہمی پیدا نہیں کی۔پھر انہوں نے کہا جماعت بھی بالکل مختلف ہے۔پھر ہمارے ایک احمدی بتاتے ہیں کہ ایک جرمن نوجوان میرے پاس اپنے احمدی دوستوں کے ہمراہ آیا اور کہنے لگا کہ میں عیسائی ہوں۔جب اُس کے ساتھ بات چیت کا ایک سلسلہ چل نکلا تو وہ مسلمانوں کی طرح بات کرنے لگا۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک بہت عقیدت اور احترام کے ساتھ مکمل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتا۔اور ساتھ ہی کہنے لگا کہ ابھی نماز کا وقت ہے میں وضو کر کے آیا ہوں اور خلیفہ وقت کے پیچھے نماز ادا کرنی ہے۔میں نے اُسے کہا کہ لگتا ہے کہ آپ نے شروع میں خود کو عیسائی کہا تھا لیکن جس طرح آپ باتیں کر رہے ہیں آپ مسلمان لگتے ہیں۔کہنے لگا کہ چھ ماہ قبل احمدیت سے تعارف ہوا تھا۔Life of Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم کتاب میں نے پڑھی ہے اور اپنے پادری سے بات کی تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکا۔میرا دل بدل چکا تھا۔عیسائیت تو ترک کر ہی چکا تھا، اب پوری توجہ اسلام کی طرف ہے۔یہ کتاب پڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا کچھ اندازہ ہوا ہے۔دعا کریں کہ اللہ تعالی باقی روکیں بھی دور کر دے۔لیتھوینیا سے ایک جرمن زبان کے استاد کارل ہائنس آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں بہت متاثر ہوا ہوں اور بہت خوش ہوں کہ پہلی مرتبہ جماعت کا اتنا تفصیلی اور اچھا تعارف ہوا ہے۔جلسہ سے قبل