خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 368 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 368

خطبات مسرور جلد 11 368 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جون 2013ء نہیں۔اگر بیعت کا حق ادا کرنا ہے تو یہ پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر کے اپنی اصلاح کرو۔یہ پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرو، اس کا نتیجہ کیا ہو گا کہ تم بہت سی آفات سے نجات پا جاؤ گے۔اس بارے میں آپ علیہ السلام نے بڑے سخت الفاظ میں اور بڑی سختی سے تنبیہ بھی فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔ویسا ہی قہار اور منتظم بھی ہے۔ایک جماعت کو دیکھتا ہے کہ اُن کا دعویٰ اور لاف و گزاف تو بہت کچھ ہے اور اُن کی عملی حالت ایسی نہیں تو اُس کا غیظ و غضب بڑھ جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 7۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) 66 اللہ نہ کرے کہ ہم کبھی خدا تعالیٰ کے غیظ و غضب کو دیکھنے والے ہوں بلکہ ہم ہمیشہ تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی استعدادوں کے مطابق کوشش کرنے والے ہوں، اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ اُس کا رحم اور فضل مانگنے والے ہوں اور اُس کے رحم اور کرم کو ہی حاصل کرنے والے ہوں۔یہ معیار حاصل کرنے کے لئے ہماری کیا حالت ہونی چاہئے اور کیا ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” انسان جس قدر نیکیاں کرتا ہے، اس کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک فرائض ، دوسرے نوافل۔فرائض یعنی جو انسان پر فرض کیا گیا ہو جیسے قرضہ کا اتارنا یا نیکی کے مقابل نیکی “ اب یہ بعض لوگ قرضے تولے لیتے ہیں اُن کے اتارنے میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔فرمایا یہ قرضے کا اتارنا یا نیکی کوئی تمہارے سے کرے تو اُس کے مقابل پر نیکی تو تمہارے فرائض میں داخل ہے۔ان فرائض کے علاوہ ہر ایک نیکی کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔فرمایا ” ان فرائض کے علاوہ ہر ایک نیکی کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔یعنی ایسی نیکی جو اس کے حق سے فاضل ہو۔جیسے احسان کے مقابل احسان کے علاوہ اور احسان کرنا۔یہ نوافل ہیں۔۔۔مثلاً زکوۃ کے علاوہ وہ اور صدقات دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسوں کا ولی ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس کی دوستی یہاں تک ہوتی ہے کہ میں اُس کے ہاتھ ، پاؤں حتی کے اُس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 9۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس یہ ہمارا خدا ہے جو نہ صرف ہر عمل کو نوازتا ہے بلکہ ایسے بندے کا ولی ہو جاتا ہے یعنی خدا تعالیٰ۔۔۔۔۔۔کی دوستی اور حفاظت کے ایسے راستے کھلتے ہیں کہ انسان کی سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔لیکن یہ مقام کب ملتا ہے؟ فرمایا ایسی حالت میں کہ تم احسان کے بدلے احسان کرو۔تمہارے سے کوئی نیکی کرے تو اس بات کی تلاش میں رہو کہ اب اس نیکی کا بدلہ کس طرح اُتار سکتا ہوں۔اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ فرمایا کہ برابر کا احسان تو ایک بدلہ ہے، ایک حقیقی مومن کا کام ہے کہ احسان سے بڑھ کر