خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 369 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 369

خطبات مسرور جلد 11 369 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جون 2013ء احسان کر کے بدلہ اُتارے۔اب دیکھیں جس معاشرے میں یہ صورتحال پیدا ہو جائے کہ ایک نیکی کے بدلے میں دوسرا بڑھ کر نیکی کر رہا ہو اور ہر ایک اس بات پر توجہ دینے والا ہو اور اس عمل کو بجالا رہا ہو کہ ایک نے نیکی کی ، اس کے جواب میں پہلا پھر بڑھ کر احسان اُتارنے کی فکر میں ہو تو ایسا معاشرہ جو ہے کبھی خود غرضوں کا معاشرہ نہیں ہو سکتا۔بلکہ امن، پیار اور محبت کا معاشرہ بن جائے گا۔اور جب یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کیا جا رہا ہو تو پھر خدا جو دلوں کا حال جاننے والا ہے اور سب سے بڑھ کر بدلہ دینے والا ہے، اُس کی عنایتوں اور نوازشوں کا تو کوئی حساب و شمار نہیں ہے۔پس وہ پھر اس طرح نواز تا ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔پس یہ وہ روح ہے جو ہم میں پیدا ہونے کی ضرورت ہے کہ نیکیاں کرنی ہیں ، بے غرض ہو کر کرنی ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کرنی ہیں۔ہماری عبادتوں میں بھی فرائض کے ساتھ نوافل ہوں، اس لئے کہ ہم خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے بن سکیں اور ہمارے دوسرے اعمال کے ساتھ بھی نوافل ہوں اور کسی دنیاوی مقصد کے لئے نہ ہوں۔احسان کا بدلہ احسان کسی بندے سے مفاد حاصل کرنے کیلئے نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو تو یہ حقیقی تقویٰ ہے۔پھر یہ وہ مغز ہے جس کی قدر خدا تعالیٰ فرماتا ہے ، ورنہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری ظاہری عبادتوں اور ظاہری قربانیوں سے مجھے کوئی غرض نہیں ہے۔اگر ہم نماز پڑھتے ہیں جس کے پڑھنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے بلکہ فرائض میں داخل ہے اور عبادت کی معراج بھی نماز ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : 57) کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور پھر نماز کے قائم کرنے کا ،مردوں کے لئے باجماعت پڑھنے کا ، باقاعدہ پڑھنے کا وقت پر پڑھنے کا قرآن کریم میں کئی جگہ پر حکم آتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہی نمازیں ہیں، بعض لوگوں کے لئے ہلاکت بن جاتی ہیں۔( الماعون : 5) پس یہ یقیناً ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ کیوں ایک نیکی انسان کے لئے ہلاکت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔اس کا سادہ جواب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نیکی کے کرنے کا حکم تقویٰ کی بنیاد پر رکھا ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ اُس مغز کو چاہتا ہے جو چھلکے اور شیل (Shell) کے اندر ہے نہ کہ ظاہری خول کو۔اگر ہماری نمازوں سے ہمارے اندر دوسروں کے لئے ہمدری کے جذبات پیدا نہیں ہوتے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم نے ایک ظاہری عمل تو کر لیا لیکن اس کی جو روح ہونی چاہئے وہ ہماری نماز میں نہیں تھی۔بعض