خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 367 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 367

خطبات مسرور جلد 11 367 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 جون 2013ء یہ آیت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے یہ تقویٰ کی وضاحت بھی کرتی ہے کہ تقویٰ اُن لوگوں کا ہے جو محسنوں میں سے ہیں اور حسن کے معنی ہیں کہ جو دوسروں سے اچھائی کا سلوک کرتے ہیں۔جواُن کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھتے ہیں۔جو علم رکھنے والے ہیں اور یہ علم انہیں تقویٰ کی راہوں پر چلانے والا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کی بھی خوبصورتی دیکھیں۔پہلے زہد کی طرف توجہ دلائی کہ اپنی خواہشات کو خدا تعالیٰ کی رضا کے تابع کرو۔پھر تقویٰ اختیار کرنے کا فرماتے ہوئے اللہ کے کلام سے وہ مثال پیش فرمائی جس میں یہ تلقین ہے کہ اپنے جذبات کو دوسروں کے جذبات کے لئے قربان کر کے انہیں فیض پہنچاؤ۔تو تقی بن کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے والے بن جاؤ گے۔پھر آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ” ہماری جماعت کے لئے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے۔خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اُس کے سلسلۂ بیعت میں ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے۔تا وہ لوگ جو خواہ کسی قسم کے بغضوں، کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے، یا کیسے ہی رُو بدنیا تھے ، تمام آفات سے نجات پاویں۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 7۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیعت کے اعلان کے متعلق فرمایا کہ بیعت کا اعلان کوئی معمولی اعلان نہیں ہے، فرمایا تم جو اعلان کرتے ہو، تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔کیونکہ میرا دعویٰ مامور ہونے کا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کام کے لئے بھیجے جانے کا ہے کہ میرے ذریعہ سے دنیا کی اصلاح ہوگی۔میرے ذریعہ سے اب بندے کو خدا تعالیٰ کی پہچان ہوگی اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو گا۔میرے ذریعہ سے اور میرے ماننے والوں کے ذریعہ سے اُن اعلیٰ اخلاق کا اظہار اور ترویج ہوگی جن کے کرنے کی خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اُترنے والی آخری شرعی کتاب میں تلقین فرمائی ہے۔قرآنِ کریم میں تلقین فرمائی ہے۔پس حقوق العباد کے لئے ہر قسم کے بغضوں اور کینوں سے اپنے آپ کو نکالنا ہوگا۔یا ہر قسم کے بغض اور کینے اپنے دلوں سے نکالنے ہوں گے۔اپنے دلوں کو آئینے کی طرح صاف کرنا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے لئے ہر قسم کے شرکوں سے اپنے آپ کو پاک کرنا ہوگا۔دنیا کا خوف یا دنیا داروں کا خوف، یا دنیاداری کی طرف رجحان، جس سے انسان خدا تعالیٰ کو بھول جاتا ہے، جس سے اُس کی عبادت کے معیار میں کمی آتی ہے، ان سب سے بچو گے تو تبھی بیعت کے حقدار کہلاؤ گے۔اور یہ بجز تقویٰ کے ممکن