خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 358
خطبات مسرور جلد 11 358 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء پس اعمال کی اصلاح صرف ظاہری طور پر علم سے نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ اُس وقت اپنے وعدے کے مطابق اصلاح کرتا ہے جب سچائی کو سامنے رکھتے ہوئے ، صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا خوف سامنے رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش ہو۔جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت میں شامل ہونے کے لئے یا اپنی جماعت میں شامل ہونے والوں کی جو نشانی بتائی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ قرآن کریم کے سات سو حکموں پر عمل کرتے ہیں۔کسی علم اور کسی خاص مقام کے ہونے کا آپ نے ذکر نہیں فرمایا۔پس ہمیں، ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اعمال کی طرف نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور اپنے آپ کو اس تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : "جو شخص اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کے موافق اپنا چال چلن نہیں بنا تا ہے وہ ہنسی کرتا ہے کیونکہ پڑھ لینا ہی اللہ تعالیٰ کا منشاء نہیں۔وہ تو عمل چاہتا ہے۔اگر کوئی ہر روز تعزیرات ہند کی تلاوت تو کرتا رہے مگر ان قوانین کی پابندی نہ کرے بلکہ جرائم کو کرتار ہے اور رشوت وغیرہ لیتار ہے تو ایسا شخص جس وقت پکڑا جاوے گا تو کیا اس کا یہ عذر قابل سماعت ہوگا کہ میں ہر روز تعزیرات کو پڑھا کرتا ہوں ؟ یا اس کو زیادہ سزا ملے گی کہ تو نے باوجود علم کے پھر جرم کیا ہے۔“ جو قانون جانتا ہے، جو ملکی قانون کو ‘“جو پڑھتا رہتا ہے،صرف قانون پڑھنے سے سزا معاف نہیں ہو جاتی۔اگر قانون پڑھ رہا ہے اور جرم کر رہا ہے تو فرمایا کہ اُس کو تو زیادہ سزا ملے گی کہ تو نے باوجود علم کے پھر جرم کیا ہے۔اس لیے ایک سال کی بجائے چار سال کی سزا ہونی چاہئے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 611۔ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں: ” غرض نری باتیں کام نہ آئیں گی۔پس چاہیے کہ انسان پہلے اپنے آپ کو دکھ پہنچائے تا خدا تعالیٰ کو راضی کرے۔اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی عمر بڑھا دے گا۔اللہ تعالیٰ کے وعدوں میں تخلف نہیں ہوتا۔اس نے جو وعدہ فرمایا ہے کہ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد : 18 ) یعنی جو چیز لوگوں کو نفع دینے والی ہو وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔” یہ بالکل سچ ہے۔عام طور پر بھی قاعدہ ہے کہ جو چیز نفع رساں ہو اس کو کوئی ضائع نہیں کرتا۔یہانتک کہ کوئی گھوڑا بیل یا گائے بکری اگر مفید ہو اور اس سے فائدہ پہنچتا ہو، کون ہے جو اس کو ذبح کر ڈالے لیکن جب وہ ناکارہ ہو جاتا ہے اور کسی کام نہیں آسکتا تو پھر اس کا آخری علاج ہی ذبح ہے۔پس یہ غور کرنے والے فقرات ہیں۔فرمایا کہ ایسا ذبح ہی ہو جاتا ہے اور پھر جو ذبح کرنے والا سمجھ لیتا ہے، مالک سمجھ لیتا ہے کہ اور نہیں تو دو چار روپے کی کھال ہی پک جائے گی اور گوشت کام آ جائے گا۔اسی طرح پر جب انسان خدا تعالیٰ کی نظر میں 66