خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 357 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 357

خطبات مسرور جلد 11 357 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء کہ ان اعمالِ صالحہ کے برکات اور انوار ساتھ نہیں ہیں۔خوب یا درکھو کہ جب تک سچے دل سے اور روحانیت کے ساتھ یہ اعمال نہ ہوں کچھ فائدہ نہ ہوگا اور یہ اعمال کام نہ آئیں گے۔اعمال صالحہ اُسی وقت اعمال صالحہ کہلاتے ہیں جب ان میں کسی قسم کا فساد نہ ہو۔صلاح کی ضدفساد ہے۔صالح وہ ہے جو فساد ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 499۔ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) 66 سے مبر امنزہ ہو۔" اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی اگر جواب طلبیاں شروع ہو جائیں، لوگوں کو خوفزدہ کیا جانے لگے تو یہ بھی فساد کے زمرہ میں آتا ہے۔پس یہ انسان کو ہر وقت اپنے مدنظر رکھنا چاہئے ، اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ اعمالِ صالحہ انہوں نے بجالانے ہیں۔اور اعمال صالحہ یا اپنے اعمال کی اصلاح اُس وقت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔اور خدا تعالیٰ نے متقیوں کی یہ نشانی رکھی ہے، تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے والوں کی یہ نشانی رکھی ہے کہ ہر عمل ، چاہے وہ نیک عمل ہو، عمل صالح نہیں بن جا تاجب تک کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہ عملِ صالح نہ ہو۔اور اس کو اللہ تعالیٰ کی نظر میں عملِ صالح بنانے کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کی ضرورت ہے، اُس کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے، استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: ”انسان سمجھتا ہے کہ نرا زبان سے کلمہ پڑھ لینا ہی کافی ہے یا نرا اسْتَغْفِرُ الله کہہ دینا ہی کافی ہے۔مگر یا درکھو زبانی لاف و گزاف کافی نہیں ہے۔خواہ انسان زبان سے ہزار مرتبہ اَسْتَغْفِرُ اللہ کہے یا سو مرتبہ تسبیح پڑھے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ خدا نے انسان کو انسان بنایا ہے طوطا نہیں بنایا۔یہ طوطے کا کام ہے کہ وہ زبان سے تکرار کرتا رہے اور سمجھے خاک بھی نہیں۔انسان کا کام تو یہ ہے کہ جو کچھ منہ سے کہتا ہے اس کو سوچ کر کہے اور پھر اس کے موافق عملدرآمد بھی کرے۔لیکن اگر طوطے کی طرح بولتا جاتا ہے تو یا درکھو نری زبان سے کوئی برکت نہیں ہے۔جب تک دل سے اس کے ساتھ نہ ہو اور اس کے موافق اعمال نہ ہوں۔وہ نری باتیں سمجھی جائیں گی جن میں کوئی خوبی اور برکت نہیں کیو نکہ وہ نرا قول ہے خواہ قرآن شریف اور استغفار ہی کیوں نہ پڑھتا ہو۔خدا تعالیٰ اعمال چاہتا ہے۔اس لیے بار بار یہی حکم دیا کہ اعمالِ صالحہ کرو۔جب تک یہ نہ ہو خدا کے نزدیک نہیں جاسکتے۔بعض نادان کہتے ہیں کہ آج ہم نے دن بھر میں قرآن ختم کر لیا ہے۔لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ اس سے کیا فائدہ ہوا ؟ نری زبان سے تم نے کام لیا مگر باقی اعضاء کو بالکل چھوڑ دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمام اعضاء اس لیے بنائے ہیں کہ ان سے کام لیا جاوے۔یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ بعض لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور قرآن اُن پر لعنت کرتا ہے کیونکہ ان کی تلاوت نرا قول ہی قول ہوتا ہے اور اس پر عمل نہیں ہوتا۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 611۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ )