خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 359 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 359

خطبات مسرور جلد 11 359 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء کسی کام کا نہیں رہتا اور اس کے وجود سے کوئی فائدہ دوسرے لوگوں کو نہیں ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا بلکہ خس کم جہاں پاک کے موافق اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 612-611۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس ہر ایک کو ، ہر احمدی کو ، ہر عہدیدار کو یہ سوچنا چاہئے کہ میں نے زیادہ سے زیادہ دوسرے کوکس طرح فائدہ پہنچانا ہے اور فائدہ پہنچانا ہی ہر ایک کے پیش نظر ہونا چاہئے۔یہ اعزاز، یہ عہدہ، یہ خدمت کا فائدہ تبھی ہے جب دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی سوچ ہو، نیک نیتی ہو، اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف توجہ ہو اور سچائی پر قائم رہنے والا انسان ہو، تقویٰ پر چلنے والا ہو۔فرمایا : " غرض یہ اچھی طرح یا درکھو کہ نری لاف و گزاف اور زبانی قیل وقال کوئی فائدہ اور اثر نہیں رکھتی جب تک کہ اس کے ساتھ عمل نہ ہو اور ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضاء سے نیک عمل نہ کئے جاویں۔جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف بھیج کر صحابہ سے خدمت لی۔کیا انہوں نے صرف اسی قدر کافی سمجھا تھا کہ قرآن کو زبان سے پڑھ لیا یا اس پر عمل کرنا ضروری سمجھا تھا انہوں نے تو یہاں تک اطاعت و وفا داری دکھائی کہ بکریوں کی طرح ذبح ہو گئے اور پھر انہوں نے جو کچھ پایا اور خدا تعالیٰ نے ان کی جسقدر قدر کی وہ پوشیدہ بات نہیں ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 612۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس یہ اللہ تعالیٰ کی قدر ہے جس کی ہمیں تلاش کرنی چاہئے۔آپ فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ کے فضل اور فیضان کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو کچھ کر کے دکھاؤ ورنہ حکمی شئے کی طرح تم پھینک دیئے جاؤ گے۔کوئی آدمی اپنے گھر کی اچھی چیزوں اور سونے چاندی کو باہر نہیں پھینک دیتا بلکہ ان اشیاء کو اور تمام کار آمد اور قیمتی چیزوں کو سنبھال سنبھال کر رکھتے ہو۔لیکن اگر گھر میں کوئی چوہا مرا ہوا دکھائی دے تو اس کو سب سے پہلے باہر پھینک دو گے۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ عزیز رکھتا ہے۔ان کی عمر دراز کرتا ہے اور ان کے کاروبار میں ایک برکت رکھ دیتا ہے۔وہ ان کو ضائع نہیں کرتا اور بے عزتی کی موت نہیں مارتا۔لیکن جو خدا تعالیٰ کی ہدایتوں کی بے حرمتی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو تباہ کر دیتا ہے۔اگر چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ تمہاری قدر کرے تو اس کے واسطے ضروری ہے کہ تم نیک بن جاؤ تا خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر ٹھہرو۔جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے حکموں کی پابندی کرتے ہیں وہ اُن میں اور اُن کے غیروں کے درمیان ایک فرقان رکھ دیتا ہے۔یہی راز انسان کے برکت پانے کا ہے کہ وہ بدیوں سے بچتار ہے۔ایسا شخص جہاں رہے وہ قابل قدر ہوتا ہے کیونکہ اس سے نیکی پہنچتی ہے۔وہ