خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 356 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 356

خطبات مسرور جلد 11 356 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء پس ان باتوں کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔دین میں بھی، دنیا میں بھی مشکلات آتی ہیں۔ہر جگہ اگر سچائی پر قائم ہو گے، تقویٰ پر قائم ہو گے، اپنے اعمال پر نظر ہوگی تو یہ مشکلات بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے دور ہوتی چلی جائیں گی۔جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ سچ کا اظہار مشکلات میں ڈال دیتا ہے۔بعض دفعہ عملاً یہ بھی ہوتا ہے لیکن اگر اپنا ظاہر و باطن ایک ہو تو پھر ڈرنے کی ضرورت نہیں۔یہ مشکلات بھی غائب ہو جاتی ہیں اور یہ صرف دشمنوں کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ اپنوں سے بھی سچ کا اظہار مشکلات میں ڈال سکتا ہے کیونکہ اپنوں میں بھی کئی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔تقویٰ کی کمی ہوتی ہے۔اس لئے انسان بعض دفعہ اپنوں سے بھی پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔مثلاً دنیا میں آجکل انتخابات ہو رہے ہیں۔مجھے بعض شکایات آتی ہیں کہ ہم نے فلاں کو ووٹ دیا یا فلاں عہدیدار نے پوچھا کہ تم نے فلاں کو کیوں اپنی رائے دی ، اُس کو ووٹ کیوں دیا؟ اب جماعتی انتخابات تو ایسے ہیں کہ ہر ایک آزاد ہے، کسی کو پوچھنے کا حق نہیں۔اگر کسی نے سچائی سے اپنے خیال میں کسی کو بہتر سمجھتے ہوئے ووٹ دیا تو کسی عہدیدار کا حق نہیں بنتا کہ جا کے اُسے پوچھا جائے کہ تم نے کیوں فلاں کو دیا، فلاں کو کیوں دیا؟ یہی اگر انسان میں کمزوری ہو، اپنی بعض غلطیاں ہوں تو ایک دفعہ یہ سچائی کا اظہار ہو جائے تو اگلی دفعہ پھر سچائی کا اظہار نہیں کرتا، کہیں میری غلطیاں اور کمزور یاں نہ پکڑی جائیں۔یا تقویٰ کی کمی ہو، جیسے بعض لوگ اظہار کر دیتے ہیں کہ ہمیں فکر ہے کہ یہ عہد یدار پھر ہمارے خلاف اپنے دلوں میں رنجشیں نہ رکھیں۔یہ تقویٰ کی کمی ہے، سچائی کی کمی ہے۔پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر حق سمجھتے ہوئے کسی نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے تو پھر سچائی یہی ہے، تقویٰ یہی ہے کہ بے فکر رہے۔ہاں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اُس کا فضل مانگتا ر ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر بھی چل رہی ہوتی ہے اور ایسی رنجشیں رکھنے والوں کو خود بھی اللہ تعالیٰ بعض دفعہ پکڑتا ہے۔یہ نہیں ہے کہ جماعتی نظام کوئی ایسا ہے جس میں جس کا جو دل چاہے، کرتا چلا جائے۔کہیں نہ کہیں کسی پکڑ میں انسان آجاتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ''اگر چہ عام نظر میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ لا إلهَ إِلَّا اللہ کے بھی قائل ہیں، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی زبان سے تصدیق کرتے ہیں۔بظاہر نمازیں بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ روحانیت بالکل نہیں رہی۔اور دوسری طرف اُن اعمالِ صالحہ کے مخالف کام کرنا ہی شہادت دیتا ہے کہ وہ اعمال، اعمالِ صالحہ کے رنگ میں نہیں کئے جاتے بلکہ رسم اور عادت کے طور پر کئے جاتے ہیں کیونکہ ان میں اخلاص اور روحانیت کا شتہ بھی نہیں ہے۔ور نہ کیا وجہ ہے