خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 350
خطبات مسرور جلد 11 350 25 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ السیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء بمطابق 21 احسان 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا- يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا - (الاحزاب: 71-72) ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صاف سیدھی بات کیا کرو۔وہ تمہارے لئے تمہارے اعمال کی اصلاح کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، یقیناً اس نے ایک بڑی کامیابی کو پالیا۔ان آیات میں خدا تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ قول سدید اختیار کرو۔صاف اور سیدھی بات کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ قول سدید یہ ہے کہ وہ بات منہ پر لاؤ جو بالکل راست اور نہایت معقولیت میں ہو۔اور لغو اور فضول اور جھوٹ کا اس میں سر عمو دخل نہ ہو ( براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 209-210 حاشیہ نمبر 11) پھر ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ : ”اے ولے لوگو جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو اور وہ باتیں کیا کرو جو سچی اور راست اور حق اور حکمت پر مبنی ہوں۔“ ست بچن روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 231) پھر فرماتے ہیں کہ : ” لغو باتیں مت کیا کرو محل اور موقع کی بات کیا کرو۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحه 337) ان تمام ارشادات میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے ہیں، یہ واضح ہوتا ہے کہ تقویٰ کا حصول اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اُس وقت ممکن ہے جب ہر حالت میں مشکل میں بھی اور