خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 351 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 351

خطبات مسرور جلد 11 351 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء آسانی میں بھی، فیصلہ کرتے ہوئے بھی ، یعنی کسی کے ذمہ اگر کوئی فیصلہ لگایا گیا ہے اُس وقت فیصلہ کرتے ہوئے بھی اور گواہی دیتے ہوئے بھی ، گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ بات چیت اور معاملات میں بھی اور رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ معاملات میں بھی، کاروبار میں کوئی چیز خریدتے ہوئے بھی اور بیچتے ہوئے بھی ، ملازمت میں اگر کوئی ملازم ہے کسی جگہ وہاں کام کرتے ہوئے ، اپنی سچائی کو ہمیشہ قائم رکھو اور جس کے پاس ملازم ہو اُس کے ساتھ معاملات میں بھی سچائی کو قائم رکھو۔غرض کہ روز مرہ کے ہر کام میں اور ہر موقع پر اللہتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے منہ پر ایسی بات آئے جو بالکل سچ ہو۔اُس میں کسی قسم کا ابہام نہ ہو۔یعنی ایسا ابہام جس سے ہر ایک اپنی مرضی کا مطلب نکال سکے۔ایسی سچائی ہو کہ اگر اس سچائی سے اپنا نقصان بھی ہوتا ہو تو برداشت کر لو لیکن اپنی راستکوئی اور سچائی پر حرف نہ آنے دو۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ روز مرہ کے معاملات میں اگر ذراسی غلط بیانی ہو بھی جائے تو فرق نہیں پڑتا لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فرق پڑتا ہے، تمہارے تقویٰ کا معیار کم ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ تقویٰ کا معیار کم ہوتے ہوئے ایک وقت میں غلط بیانی اور جھوٹ کے قریب تک تمہیں لے جائے۔یا سچائی سے انسان بالکل دور ہو جائے اور جھوٹ میں ڈوب جائے اور پھر خدا تعالیٰ سے دور ہو جائے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وجہ سے کہ سچائی پر قائم نہیں ایک انسان رڈ کر دیا جائے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر مومن ہو تو تقویٰ سے کام لیتے ہوئے ہمیشہ قولِ سدید پر قائم رہو۔فرمایا کہ قولِ سدید کا یہ بھی معیار ہے کہ جو الفاظ منہ پر آئیں وہ معقولیت بھی رکھتے ہوں۔یہ نہیں کہ جو اول شلول ہم نے سچ بولنا ہے، ہم نے بول دینا ہے۔بعض دفعہ بعض باتیں سچی بھی ہوتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ کہی بھی جائیں۔وہ معقولیت کا درجہ نہیں رکھتیں۔فتنہ اور فساد کا موجب بن جاتی ہیں۔کسی کا راز دوسروں کو بتانے سے رشتوں میں دراڑیں پڑتی ہیں۔تعلقات میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔لیکن یہ بھی ہے کہ ایک بات ایک موقع پر ایک جگہ پر معقول نہیں ، لیکن دوسرے موقع اور جگہ پر یہ کرنی ضروری ہو جاتی ہے۔مثلاً خلیفہ وقت کے پاس بعض باتیں لائی جاتی ہیں جو اصلاح کے لئے ہوں۔پس اگر ایسی بات ہو تو گو ہر جگہ کرنے والی یہ نہیں ہوتی لیکن یہاں آ کر وہ معقولیت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔پس ایک ہی بات ایک جگہ فساد کا موجب ہے اور دوسری جگہ اصلاح کا موجب ہے۔پھر معقولیت کی مزید وضاحت بھی فرما دی کہ کسی قسم کی لغو اور فضول بات قول سدید کے نام پر نہ ہو۔بعض لوگ بات تو صحیح کر دیتے ہیں، اپنے زعم میں اصلاح کے نام پر بات پہنچاتے ہیں لیکن اُس میں