خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 325
خطبات مسرور جلد 11 325 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 مئی 2013ء ہے، اُس نے بڑی قوت کے ساتھ اور زور دار طریقے سے اس واقعہ کی مذمت کی ہے کہ یہ غیر اسلامی عمل ہے۔اور یہ بڑا اچھا کام ہے جو انہوں نے کیا اور بڑا اچھا بیان ہے جو مسلم کونسل نے دیا۔پھر اسی طرح ( یہ سوال تھا) کہ آپ دنیا میں دہشتگردی کو روکنے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ اُس کو بتایا میں نے کہ ہم تو مسلسل کوشش کر رہے ہیں اور دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے وہاں کے مختلف ممالک میں مختلف لوگوں کی خدمت بھی کر رہے ہیں۔اور طاقت تو ہمارے پاس کوئی ہے نہیں کہ ہم طاقت کے زور سے اس ظلم کو کچھ روک سکیں۔ہاں اسلام کی سچی تعلیم ہے، جس کو ہم پھیلا رہے ہیں اور پھیلاتے چلے جائیں گے۔تو پھر اس نے کہا کہ یہ مشہور ہے کہ مسجدوں سے تشدد پھیلتا ہے۔اُس کو میں نے کہا میں باقی کا تو نہیں کہتا۔یہ ہماری جماعت احمدیہ کی جو مساجد ہیں، یہاں سے ہمیشہ امن اور محبت اور پیار کا پیغام ہی بھیجا گیا ہے، اور اسی کے لئے ہم کوشش کرتے رہتے ہیں۔اور اسی لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے عمومی طور پر جماعت احمدیہ میں مجرموں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ نہیں ہے۔اور اگر ایک آدھ کوئی ایسا ہوتو جماعت اُس پر ایکشن لیتی ہے اور فوراً اُس کو جماعت سے نکال دیتی ہے۔ہیں پچیس منٹ کا انٹرویو تھا۔یہ سی بی سی کی وہ جرنلسٹ عورت بار بار پھیر کے ایسے سوال کر رہی تھی کہ کسی طرح میں اُس کے قابو آ جاؤں کہ اسلام کی تعلیم امن کی تعلیم نہیں ہے اور ہم کوئی اور بات کر رہے ہیں۔آخر میں نے اُسے کہا کہ تم مختلف زاویوں سے ایک ہی سوال کرتی چلی جا رہی ہو۔میرا جواب وہی رہے گا۔تو ہنس پڑی۔بعد میں کہنے لگی۔ہمارے آدمیوں کو اس نے کہا کہ یہ میری سٹریٹی (Strategy) سمجھ گئے تھے۔میں یہی چاہتی تھی کہ کسی طرح اسلام کے خلاف کوئی بات نکلواؤں۔بہر حال اسلام کی جو سچی تعلیم ہے وہ تو ظاہر ہے خود ہی نکلتی ہے، کوئی بناوٹ تو ہمارے اندر ہے نہیں۔پھر کہتی ہے تمہارا یہ پیغام پھیلے گا کس طرح ؟ اُس کو میں نے یہی کہا کہ ہم پیغام پہنچا رہے ہیں اور پہنچاتے چلے جائیں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمت نہیں ہاریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکیلے تھے جب آپ نے دعویٰ کیا۔جب آپ کی وفات ہوئی تو قریباً پانچ لاکھ کے قریب احمدی تھے۔اس کے بعد خلافت کا سلسلہ شروع ہوا۔ایک سو پچیس سال گزرے ہیں تو اب ہم کروڑوں میں ہیں۔اور مسلمان بھی ہمارے اندر شامل ہور ہے ہیں، عیسائی بھی شامل ہو رہے ہیں، دوسرے مذاہب کے لوگ بھی شامل ہورہے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ نسلیں اس کو قبول کریں گی اور تب یہ صیح امن دنیا میں قائم ہوگا اور صحیح اسلام دنیا میں پھیلے گا۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس دورہ سے محتاط اندازے کے مطابق