خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 326
خطبات مسرور جلد 11 326 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 مئی 2013 ء ہیں ملین سے زیادہ لوگوں تک پیغام پہنچا۔یا دو کروڑ لوگوں سے زیادہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچا۔اور اتنی بڑی تعداد میں پیغام پہنچانا اور پھر لوگوں کی آوازیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام اور جماعت کے حق میں اُٹھانا۔جیسا کہ میں نے بعض مثالیں بھی دی ہیں۔یہ انسانی کوشش سے یقیناً یقیناً نہیں ہو سکتا تھا۔یہ اللہ تعالی کی چلائی ہوئی ہوا ہے۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ کی رؤیا کا میں نے Los Angeles کے خطبے میں ذکر کیا تھا۔وہاں میں نے شاید بیان کیا تھا کہ لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، اصل میں لوگ نہیں بلکہ انہوں نے میدان ہی دیکھے تھے اور خالی زمین میں سے اسلام اور احمدیت کے حق میں آوازیں آتی دیکھی تھیں۔تو یہ آوازیں جو اُٹھ رہی ہیں یقیناً اس کا ایک پہلو اس طرح بھی ہے۔پس یہ جولوگوں کی توجہ ہے اور یہ جومختلف تبصرے ہیں، یہ اس بات کی تصدیق ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ آواز میں اُس علاقے سے اب اُٹھتی چلی جائیں گی اور اسلام کے حق میں بہت شدت سے گونجیں گی۔میں کہتا ہوں کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص توارد ہے کہ ایک مہینہ پہلے میں سپین کے دورے پر گیا۔وہاں سپین میں بڑے وسیع پیمانے پر جماعت کا تعارف ہوا۔وہ ملک جو ایک زمانے میں اسلام کے تحت تھا، اب عیسائی ہے اور دوبارہ اسلام کا وہاں تعارف ہو رہا ہے۔اور امریکہ کے علاقے میں بھی ایک مہینہ کے بعد میں اُس علاقے میں گیا جہاں بہت بڑی تعداد میں سپینش لوگ آباد ہیں۔پس اس کام کو سنبھالنا اب ہمارا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو دونوں طرف کے سپینش میں ، مشرق کے سپینش میں بھی اور مغرب کے سپینش میں بھی احمدیت کا اور حقیقی اسلام کا جو پیغام پہنچایا ہے اس کو ہم پوری کوشش سے جاری رکھیں اور ان لوگوں کو اسلام کے جھنڈے تلے لے کر آئیں۔امریکہ میں تو خاص طور پر جیسا کہ میں نے وہاں بھی جمعہ پر کچھ کہا تھا کہ وہاں کے سپینش لوگ کہتے ہیں کہ ہماری بہت بڑی تعداد ہے، سپینش سے دس گنا زیادہ تو ہماری طرف توجہ کریں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی ایک ارشاد ایک شوری کے موقع پر تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک مغرب سے سورج نکلنے میں امریکہ کا بھی بہت تعلق ہے۔پھر ایک جگہ امریکہ میں تبلیغ اسلام کی خاص مہم کا بھی آپ نے ذکر فرمایا۔(ماخوذ از خطابات شوری از سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد مجلس مشاورت 1924ء جلد سوم صفحہ 108) پس ہمیں خاص طور پر امریکہ میں تبلیغی پروگرام بنانے چاہئیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ تبلیغ کرتے ہوئے اپنی تربیت کو، نئے آنے والے کی تربیت کو بھولنا نہیں چاہئے۔یہ دونوں چیزیں