خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 324
خطبات مسرور جلد 11 324 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 مئی 2013 ء پھر مراکش کے ایک مسلمان کہتے ہیں کہ آپ امن کے پیغام کو فروغ دے رہے ہیں۔امید ہے میڈیا کے ذریعہ اسلام کے متعلق شدت پسندی کے بجائے امن کا پیغام پھیلے گا۔میں خود بھی مسلمان ہوں لیکن آج اس خطاب کے ذریعہ میں نے اسلام کے متعلق بہت سی نئی باتیں سیکھی ہیں۔مسجد کا جو افتتاحی خطاب تھا وہ لائیو ہی آیا تھا۔ایک مہمان جو مسلمان نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ خطاب نہایت پر فکر تھا۔اس خطاب میں وسیع پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔سب سے خاص بات یہ تھی کہ ایک عام آدمی کے ڈر کو آپ نے اپنے خطاب میں مخاطب کیا اور خطاب انتہائی واضح تھا اور اس میں قابل تحسین دوراندیشی تھی۔ایک صاحب نے کہا آپ کا توحید کا پیغام تمام دنیا کے لئے اپنے اندرا ہم معنی رکھتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اس خبر کو پہنچانے میں بھی مختلف میڈیا نے کردار ادا کیا۔کیلگری میں جو ہوا، اُس کو بھی CBC نے ہی ٹی وی نے ، اومنی ٹی وی نے دیا۔اور اس طرح تقریباً ساڑھے آٹھ ملین ، پچاسی لاکھ لوگوں تک یہ پیغام پہنچا۔یعنی کل مجموعی طور پر یہ دیکھیں تو تقریباً دو کروڑ سے زیادہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچا ہے۔اور اس حساب سے امریکہ کی آبادی کے لحاظ سے چار فیصد سے زیادہ آبادی کو، بلکہ اُس صوبے ویسٹ کوسٹ کے لحاظ سے تو میرا خیال ہے پچیس سے تیس فیصد تک لوگوں کو پیغام پہنچا اور کینیڈا کی کل آبادی کے لحاظ سے پچیس فیصد آبادی کو پیغام پہنچا جو کسی بھی ذریعہ سے پہنچنا ممکن نہیں تھا۔یہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔پھر کینیڈا میں ہی اس نے ایک سوال یہ کیا تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔تو کیا آج مسلمانوں کی طرف سے امن ظاہر ہو رہا ہے؟ اُس کو میں نے یہ کہا کہ قرآنِ کریم کی تعلیم تو یہی ہے۔اگر کوئی لیڈر، حاکم یا عوام اس کا اظہار نہیں کر رہے یا مسلمان ملکوں میں یہ نہیں ہورہا اور اُن کو حقوق نہیں دیئے جا رہے تو یہ اُن کا قصور ہے۔اور اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔پھر بار بار یہی حوالہ تھا کہ جو واقعات ہوئے ہیں مثلاً کینیڈا میں ٹرین کا واقعہ، بوسٹن بم بلاسٹ کا واقعہ، لندن کا واقعہ، تو اُس کو میں نے بتایا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ سے دور ہٹنے کی وجہ سے ہے۔اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ یہ کرو، بلکہ ان لوگوں کی اللہ تعالیٰ سے دوری کی وجہ سے یہ کچھ ہے اور اگر یہ صیح تعلیم پر عمل کریں تو امن قائم ہو جائے۔اور اسی حوالے سے میں نے ان کو یہ بھی کہا کہ اسلام کے اندر اسلام کے نام پر چند ایک انتہا پسند گروپ ہیں جو کام کر رہے ہیں۔برطانیہ میں جو واقعہ ہوا ہے، اس کو میں نے کہا کہ وہاں برطانیہ کی مسلم کونسل ہے، مسلمانوں کی ایک بڑی تنق