خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 287
خطبات مسرور جلد 11 287 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مئی 2013 ء پس مسلمانوں اور غیر مسلموں سب کے لئے راہ ہدایت اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی ہے۔اس ملک میں بھی اور اس شہر میں بھی لاکھوں ہزاروں مسلمان رہتے ہیں۔یقیناًیہ مسجد اُن کی توجہ کھینچنے والی بھی ہوگی۔اس مسجد کی تعمیر سے منفی اور مثبت دونوں رنگ میں غیر از جماعت اور غیر مسلموں میں ذکر ہوگا۔اور اس ذکر کی وجہ سے آپ کی تبلیغ کے راستے بھی مزید کھلیں گے۔اس کے لئے بھی آپ کو اپنے آپ کو تیار کرنا ہو گا۔پس مسجد کے بننے سے ایک کے بعد دوسری ذمہ داری آپ پر پڑتی چلی جائے گی تبلیغ کے لئے ظاہر ہے کہ جب آپ اپنے آپ کو تیار کریں گے تو جہاں علمی لحاظ سے تیار کریں گے وہاں اپنے اخلاق کو بھی اعلیٰ معیاروں تک پہنچانے کی کوشش کریں گے اور کرنی چاہئے ، ورنہ تو قول و فعل میں تضاد کی وجہ سے آپ کے قریب بھی کوئی نہیں آئے گا۔پس مساجد کی تعمیر سے ذاتی طور پر بھی برکات کے دروازے کھلتے ہیں جو ایک مومن کو اُس کے ایمان میں بڑھاتے چلے جاتے ہیں اور جماعتی برکات تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس طرح نازل ہوتی ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مسجد کے حوالے سے مختلف جگہ پر ذکر فرمایا ہے۔مسجد کے احترام کے معیار قائم کرنے کے لئے بھی ذکر ہے۔مسجد کے مقاصد کے بارے میں بھی بتایا ہے۔مسجد میں آباد کرنے والوں کی خصوصیات کے بارے میں بھی بتایا ہے۔اس وقت جو آیت میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اُس میں مسجد آباد کرنے والوں کا ذکر ہے۔پہلی بات یہ بیان کی کہ مسجدوں کو آباد کرنے والے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے ہیں۔یہ کہ دینا کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں ، کافی نہیں۔اس ایمان کے بھی کچھ معیار خدا تعالیٰ نے مقررفرمائے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ایمان کے یہ معیار قائم کرو گے تو پھر ہی کامل مومن ہو، ورنہ ایمان کامل نہیں ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے: قالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا (الحجرات :15 )۔کہ اعرابی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔یعنی وہ لوگ جو بظاہر تعلیم و تمدن سے محروم ہیں یا کم درجے کے ہیں اور اس وجہ سے اسلام کی حقیقی تعلیم اور اللہ تعالیٰ سے تعلق میں اُن کی ترقی نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ جواب میں فرماتا ہے کہ یہ نہ کہو کہ ہم ایمان لے آئے۔فرمایا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا ( الحجرات: 15)۔یعنی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوفر مایا کہ ان کو بتادے کہ تم ایمان نہیں لائے لیکن تم یہ کہو کہ ہم نے ظاہری فرمانبرداری قبول کر لی ہے، جو کسی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔پس کلمہ پڑھنے کے بعد پھر ایمان میں ترقی ، اللہ تعالیٰ سے تعلق، اُس کی عبادت کی طرف توجہ،