خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 288
خطبات مسرور جلد 11 288 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مئی 2013 ء اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار رہنا اور دینا، اُس کے احکامات پر عمل کرنا، یہ ہے اصل چیز جو اسلام قبول کرنے کے بعد ایک مومن میں ہونی چاہئے ، جو اس زمانے کے امام کو ماننے کے بعد ایک احمدی میں ہونی چاہئے۔یعنی روحانی ترقی کا ہر روز ایک نئی شان دکھانے والا ہو، انسان کو اپنے اندر محسوس ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : 66 مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال اُن کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اُس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ را ہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے ہیں اور اُس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بت کی طرح خدا سے روکتی ہے ، خواہ وہ اخلاقی حالت ہو۔۔۔بی غفلت اور کسل ہو ،سب سے اپنے تئیں دور ترلے جاتے ہیں۔مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 653-654 اشتہار نمبر 270 بعنوان تبلیغ الحق، مطبوعہ ربوہ ) پس یہ معیار ہیں جو ہم نے اختیار کرنے ہیں۔اور جب یہ معیار ہوں گے تبھی ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے کہلا سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ تعریف فرمائی ہے کہ تقویٰ کی باریک راہوں کو خدا تعالیٰ کے لئے اختیار کرتے ہیں، تقویٰ کی باریک راہوں کی تعریف آپ نے یہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے بھی حق ادا کرنا اور اُس کی مخلوق کا بھی حق ادا کرنا۔اپنے جسم کے ہر حصے اور ہر عضو کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کا تابع کرنا۔جہاں اپنے اعضاء کو غلط کاموں سے بچانا وہاں اپنی سوچ کو بھی ہر لحاظ سے پاک رکھنا۔تبھی نمازوں کے وقت میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف توجہ رہے گی۔تبھی نمازوں کا قیام بھی ہوگا۔اگر سوچوں کا محور صرف دنیا اور دنیا کے لذات ہیں تو نمازوں میں تو جہ نہیں قائم رہ سکتی۔بظاہر انسان نماز پڑھ رہا ہوتا ہے لیکن خیالات کہیں اور پھر رہے ہوتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ اُس کی یعنی خدا تعالیٰ کی محبت میں محو رہنے والے اصل مومن ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مومن کی یہ نشانی بتائی کہ اُس کا دل ایک نماز سے دوسری نماز تک مسجد میں انکار ہتا ہے۔وہ اس انتظار میں ہوتا ہے کہ اگلی نماز کا وقت ہو تو میں مسجد جاؤں۔(سنن النسائی، کتاب الطهارة، باب الفضل في ذالک حدیث نمبر (143) دنیاوی کام بھی انسان کے لئے ضروری ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں یہی بات واضح کر کے فرمائی ہے کہ جو اپنے کاموں کا جو اُس کے ذمہ ہیں اُن کا حق ادا نہیں کرتا ، وہ بھی قابل مواخذہ ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 118 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ )