خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 286 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 286

خطبات مسرور جلد 11 286 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مئی 2013 ء مسجد کے نام کے ساتھ جو ایک روحانی تعلق پیدا ہوتا ہے، جو جذبات کی کیفیت ہوتی ہے، وہ بغیر با قاعدہ مسجد کے نہیں ہوتی۔یہ انسانی نفسیات بھی ہے۔پس یہاں اب زمینیں خریدی گئی ہیں ، وہاں بجائے صرف سینٹر بنانے کے، ہال بنانے کے، باقاعدہ مسجد بنائیں۔کینیڈا میں ایک جماعت کے بارے میں مجھے پتہ چلا کہ اُن کے پاس زمین ہے۔جو رقم ہے اُس سے وہ چاہتے ہیں کہ ہال تعمیر کرنا چاہئے لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جب دوبارہ اُن کی رائے لی گئی تو اُن میں سے اکثریت اس بات کی طرف زیادہ رجحان رکھتی ہے کہ مسجد بنائی جائے۔اللہ تعالیٰ اُن سب جماعتوں کو اپنی مساجد بنانے کی توفیق دے جہاں جہاں مسجدوں کی تعمیر کے منصوبے زیر نظر ہیں۔یقیناً مساجد کی تعمیر کے بعد تبلیغ کے راستے بھی کھلیں گے اور کھلتے ہیں۔گزشتہ ماہ بلکہ مارچ کے آخر میں میں نے ویلنشیا کی مسجد کا افتتاح کیا تھا۔تو اب جور پورٹس آرہی ہیں اُس کے مطابق جہاں غیر مسلموں کی اس طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے، اسلام کے بارے میں وہ لوگ جان رہے ہیں وہاں غیر از جماعت مسلمان بھی نمازیں پڑھنے کے لئے آتے ہیں اور جماعت کا تعارف حاصل کر رہے ہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ انہی میں سے سعید فطرت لوگوں کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں داخل ہونے کی اللہ تعالیٰ توفیق بھی عطا فرمائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذمہ خدا تعالیٰ نے جو کام لگائے ہوئے ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو حقیقی اسلام کی تعلیم دی جائے۔اس اسلام پر جمع کیا جائے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے۔اُس شریعت کو لاگو کیا جائے جو آپ پر اتری تھی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام فرمایا کہ: ” سب مسلمانوں کو جوڑوئے زمین پر ہیں جمع کرو، وو عَلَى دِيْنِ وَاحِدٍ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ: یہ امر جو ہے کہ سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو عَلی دِینِ وَاحِدٍ۔یہ ایک خاص قسم کا امر ہے۔پھر آپ علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال دے کر فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے لئے بھڑکائی ہوئی آگ کو فرمایا تھا کہ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا کہ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی کا باعث بن جا۔اور وہ بعینہ اسی طرح پورا ہو گیا۔آپ نے فرمایا کہ : ” یہ امر جو میرے اس الہام میں ہے یہ بھی اسی قسم کا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مسلمانانِ رُوئے زمین علی دِيْنِ جمع ہوں اور وہ ہو کر رہیں گے۔ہاں اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان میں کوئی کسی قسم کا بھی اختلاف نہ رہے۔اختلاف بھی رہے گا، مگر وہ ایسا ہو گا جو قابل ذکر اور قابل لحاظ نہیں۔“ وَاحِدٍ ( تذکره صفحه 490 مع حاشیہ ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ)