خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 274
خطبات مسرور جلد 11 274 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مئی 2013ء ”خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُن تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا اُن سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں تو حید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔" (رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 306-307) پس دنیا کو تو حید پر قائم کرنے اور دین واحد پر جمع کرنے کے لئے جن باتوں کی ضرورت ہے وہ ایک تو تبلیغ ہے، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہے۔دوسرے اپنے اخلاق کو اعلی سطح پر لے جانا ہے تیسرے دعاؤں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے مدد چاہتا ہے۔پس آج ہر احمدی کو ، ہر اُس شخص کو جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کرتا ہے اس ذمہ داری کو سمجھنے کی ضرورت ہے تا کہ اُس مقصد کے حصول کا ذریعہ بن سکے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھیجے گئے تھے۔بیشک نشانات و براهین خدا تعالیٰ نے عطا فرمائے اور آج تک ان نشانات کے ذریعہ ہی ہم احمدیت کی ترقی دیکھ رہے ہیں۔اگر اپنی کوشش دیکھیں تو ہزارواں لاکھواں حصہ بھی نہیں اُن انعامات اور فضلوں کا جو اللہ تعالیٰ جماعت پر فرما رہا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے ہماری ذمہ داری بتائی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرف ہمیں توجہ دلائی ہے۔اگر ہم میں سے ہر ایک اس طرف توجہ نہیں کرے گا تو اُن فضلوں کا وارث نہیں بن سکے گا جو آپ علیہ السلام کی جماعت کا فعال حصہ بننے سے وابستہ ہیں۔پس ہمیں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بیشک پھل ہماری کوشش سے نہیں لگ رہے، انعامات ہماری کوشش سے نہیں مل رہے۔یہ محض اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں۔اُس خدا کے فضل ہیں جو اپنے پیاروں کی ہمیشہ لاج رکھتا ہے، جو جب کسی کو اپنے اذنِ خاص سے کھڑا کرتا ہے تو اُس کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو حیرت انگیز طور پر پورا کر کے دشمن کو ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے فرستادے کی جماعت ترقی کی نئی سے نئی منازل طے کرتی چلی جاتی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا، کوشش کا ہمیں بہر حال حکم ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کوشش کرنے والوں کی خصوصیات کا جو قرآنِ کریم میں متعدد جگہ ذکر فرمایا ہے، اُن کا ایک جگہ اس طرح ذکر فرمایا کہ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مَن دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (حم السجدۃ:34)۔اور بات کہنے میں اس سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک اعمال بجالائے اور کہے کہ میں یقیناً کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔