خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 275
خطبات مسرور جلد 11 275 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مئی 2013ء پس یہ باتیں ہیں، یعنی دعوت الی اللہ یا تبلیغ ، اپنے اعمال کی طرف نگاہ رکھنا، نیک اعمال بجالا نا، حقوق اللہ اور حقوق العباد میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کی کامل فرمانبرداری کرنا، اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کے مطابق ان حقوق کی ادائیگی کرنا۔کیونکہ تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اپنے اعمال پر نظر رکھتے ہوئے اُن کو خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق نہ ڈھالا جائے۔اور پھر ان کی ادائیگی میں خدا تعالیٰ کی رضا کو جب تک مد نظر نہ رکھا جائے۔جب ایک احمدی اپنے اجلاسوں اور اجتماعوں میں یہ عہد کرتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔تو پھر اس کا مکمل پاس کرنا بھی ضروری ہے۔تبھی ہمارے نمونے دیکھتے ہوئے دنیا ہماری طرف متوجہ ہو گی۔جب خلفاء دنیا کو یہ چیلنج دیتے رہے یا اب میں جب دنیا کو یہ کہتا ہوں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کے پیغام کو بغیر تھکے دنیا تک پہنچاتے چلے جائیں گے اور ایک دن دنیا کا دل جیت کر اُن کو اسلام کی آغوش میں لے آئیں گے۔تو اس حسنِ ظن کے ساتھ یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اعمال کی خوبصورتی اور خدا تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری کرتے ہوئے افراد جماعت کی روحانی ترقی کے معیار نہ صرف قائم رہیں گے بلکہ بہتر سے بہتر ہوتے چلے جائیں گے۔اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو، آپ علیہ السلام کے مشن کو ، ایک لگن کے ساتھ آگے چلاتے چلے جائیں گے۔بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے ایک گروہ ایسا ہو جو دین کا علم حاصل کرنے والا ہو۔تفقہ فی الدین رکھتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو اپنے ہم قوموں کو اور دنیا کو پہنچاتا چلا جائے لیکن مومنین کو بھی حکم ہے دعوت الی اللہ کرو۔اگر ہمارے پاس مبلغین کی فی الحال کمی ہے تو ہم انتظار نہیں کر سکتے کہ وہ تیار ہوں گے تو پھر تبلیغ کے کام آگے بڑھیں گے تبلیغ کے کاموں کو آگے بڑھاتے چلے جانے کے لئے ہمیں ہر جگہ سے ایسے گروہ نکالنے ہوں گے جو خدا تعالیٰ کے پیغام کو آگے بڑھاتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ملک میں افراد جماعت کا ایک طبقہ ایسا ہے جو تبلیغ کا شوق بھی رکھتا ہے اور اس کے لئے وقت بھی دیتا ہے۔امریکہ میں بھی ایسے لوگ ہیں، باوجود اس کے کہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں معاشی حالات کی سختی کی وجہ سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور اس وجہ سے دنیا کمانے کی طرف رجحان زیادہ ہے۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک گروہ یہاں بھی ایسا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد پر ایسے احسن رنگ میں عمل کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے اور اُن کے لئے دعائیں بھی نکلتی ہیں۔بعض ایسے لوگ مجھے ملے ہیں جو چھوٹی موٹی دکانداری کرتے ہیں، سٹال لگاتے ہیں لیکن اس سٹال کے ساتھ بھی انہوں نے تبلیغ جاری رکھی ہوئی ہے۔انہوں نے سٹالوں کو بھی تبلیغ کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔