خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 273 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 273

خطبات مسرور جلد 11 273 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مئی 2013ء کی لیکن یہ غلبہ ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کے بے حساب نشانات آپ کے حق میں ظاہر ہوئے اور علمی اور روحانی لحاظ سے بھی آپ کا مقابلہ کوئی نہ کر سکا۔پھر غلبہ کا دوسرا حصہ ہے، جیسا کہ میں نے کہا ، وہ نبی کی وفات کے بعد شروع ہوتا ہے۔اصل میں تو یہ بھی نبی کے دلائل اور خدا تعالیٰ کے نشانات کے ظاہر ہونے کا تسلسل ہی ہے لیکن یہ نبی کی زندگی کے بعد ہوتا ہے۔گود شمن سمجھتا ہے کہ نبی فوت ہو گیا کہ جس شخص نے دعویٰ کیا تھا وہ فوت ہو گیا۔جس نے جماعت بنائی تھی وہ اس دنیا سے گزر گیا۔اب ہم دوبارہ اُس کی بنائی ہوئی جماعت کو زیر کرلیں گے، اپنے میں شامل کرلیں گے۔اس جماعت میں شامل لوگوں کو مفسدانہ خیالات پھیلا کر جماعت سے دور کرلیں گے کیونکہ اب ان کو سنبھالنے والا کوئی نہیں۔جو نبی کو عارضی غلبہ ملا تھا وہ اب اپنے خاتمے کو پہنچ جائے گا۔یہ دشمنوں کی سوچ ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخالفین نے بھی یہی سمجھا تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اس بارے میں پہلے ہی بتادیا تھا کہ پہلے انبیاء کی طرح میرا غلبہ بھی وہ غلبہ ہوگا اور خدا تعالیٰ کے جو وعدے ہیں، جب تک وہ پورے نہیں ہوتے ، وہ غلبہ ہوتا چلا جائے گا۔پس یہ آپ نے فرمایا کہ میں فوت بھی ہو جاؤں تو پریشان نہ ہونا۔میں نے جو بیج ڈالا ہے، جو تخم ریزی کی ہے اُس نے تناور پھل دار درختوں کا ایک سلسلہ بننا ہے جو دوسری قدرت یعنی خلافت کے ذریعہ سے قائم رہے گا تا کہ غلبہ کا وعدہ پورا ہوتا رہے۔پس غلبہ کا ایک حصہ جس طرح انبیاء کی زندگی میں اور ایک حصہ اُن کی زندگی کے بعد پورا ہوتا ہے، اسی طرح جماعت احمد یہ حضرت مسیح موعود سے کئے گئے وعدے کے دوسرے حصہ کو بھی پورا ہوتا دیکھ رہی ہے۔بیشک جماعت کی ترقی اور غلبہ تو ہونا ہی ہے، جیسا کہ پہلے میں نے بتایا، عددی لحاظ سے ، تعداد کے لحاظ سے بھی ہو گا اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ بھی ہو رہا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری ذمہ داری بھی بتائی ہے کہ کس طرح ہم اس غلبہ کا حصہ نسلاً بعد نسل بن سکتے ہیں۔اور یہ ذمہ داریاں وہی ہیں جو قرآن کریم نے ہمیں بتائی ہیں کہ تقویٰ پر قدم ما رو۔اپنے نفسوں کی اصلاح کرو اپنی روحانی اور اخلاقی حالت کے جائزے لو اس پیغام کو اور اس مشن کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر د کیا گیا ہے، پورا کرو۔آپ اپنے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں دنیا میں خدائے واحد کی حکومت قائم کرنے آئے تھے۔دنیا کو شرک سے پاک کرنے آئے تھے۔آپ فرماتے ہیں: