خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 235
خطبات مسرور جلد 11 235 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرز امسر وراحمد خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013 ء بمطابق 19 شہادت 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ (آل عمران: 103) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کا ایسا تقویٰ اختیار کرو جیسا اس کے تقویٰ کا حق ہے اور ہرگز نہ مرو مگر اس حالت میں کہ تم پورے فرمانبردار ہو۔اس آیت میں ایک حقیقی مومن کی حالت بیان کی گئی ہے۔ایک حقیقی مومن کو تقویٰ کی تمام شرائط کو پورا کرنے والا ہونا چاہئے اور تقویٰ کا حق یا اُس کی تمام شرائط کیا ہیں؟ اس کی جو وضاحت ہمیں قرآنِ کریم سے ملتی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے تمام حقوق اور بندوں کے تمام حقوق کا خیال رکھنا، ہر قسم کی نیکی کو بجالانے کے لئے تیار رہنا، اللہ تعالیٰ کے احکامات کو زندگی کے آخری لمحات تک بجالانے کی کوشش کرنا۔اللہ اور رسول نے جو حکم دیئے ہیں، جو باتیں کی ہیں، جو پیشگوئیاں کی ہیں اُن پر ایمان لانا اور اُن پر یقین کامل رکھنا اور اُن پر عمل کرنے کی کوشش کرنا۔صرف مسلمان کا نام اپنے ساتھ لگانا یا اپنے آپ کو مسلمان کہنا ایمان لانے والوں میں شمار نہیں کرواتا۔بلکہ یہ عمل ہے اور مسلسل عمل ہے۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل ہے اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنا ہے جو تقویٰ کی شرائط کو پورا کرنے والا بنا سکتا ہے اور حقیقی مسلمان بھی وہی کہلاتا ہے جو یہ عمل کرنے والا ہو۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے مذاہب اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے نکل گئے کیونکہ انہوں نے ان باتوں کا خیال نہیں رکھا۔اگر تم نے بھی تقویٰ کا خیال نہ رکھا، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر توجہ نہ دی، اپنے