خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 236
خطبات مسرور جلد 11 236 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء فرائض کی ادائیگی پر غور نہ کیا ، تو تم بھی ایسے لوگوں میں شمار ہو گے جو خدا تعالیٰ کی سزا کے مورد بنے۔اور تمہاری موت بھی ایسی موت ہوگی جو نیک اعمال بجانہ لانے والوں کی موت ہوتی ہے۔مسلمان ہو نا کامل فرمانبرداری چاہتا ہے۔پس ایک مسلمان کو ان باتوں کو اپنے مدنظر رکھنا چاہئے۔ایک حقیقی مومن کو خدا کا خوف ہمیشہ رہنا چاہئے اور اُن باتوں کی تلاش رہنی چاہئے جو خدا تعالیٰ کا فرمانبردار بنا ئیں، حقیقی مسلمان بنا ئیں۔اس کے لئے خواہ دنیاوی نقصان اٹھانا پڑے، ایک حقیقی مسلمان کو اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ماں باپ، عزیز، رشتہ دار، معاشرہ، لیڈر، سیاسی لیڈر ، مذہبی لیڈر غرض کہ کوئی بھی ہو، ایک حقیقی مسلمان کو اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے دور کرنے والا نہیں ہونا چاہئے۔ہر شخص نے خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر اپنا حساب خود دینا ہے۔کوئی سیاسی لیڈر ، کوئی عزیز ، کوئی مولوی کسی کو بچانے والا نہیں ہوگا۔کوئی پیر، کوئی گدی نشین کسی کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سمجھنا، اُس کے نشانات کو دیکھ کر اُن پر غور کرنا ، اُس کے رسول نے جو تقویٰ کے راستے بتائے ہیں اُن پر چلنا، فلموں اور زیادتیوں میں اپنے آپ کو شامل ہونے سے بچانا ، اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ، یہ ہے ایک حقیقی مسلمان کی حالت۔ورنہ ایمان لانے کا دعویٰ صرف دعوی ہے جو تقویٰ سے خالی ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات سے دور ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں دوسری جگہ فرمایا ہے کہ ایسے تقویٰ سے عاری لوگوں کی نہ عبادتیں قبول ہوتی ہیں، نہ قربانیاں، بلکہ ظاہری نمازیں بھی خدا تعالیٰ کا قرب دلانے کی بجائے ہلاکت کا موجب بن جاتی ہیں۔اور جو خدا تعالیٰ کے فرمانبردار ہوتے ہیں، اُس کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں ،اُس کی رضا کی خاطر ہر کام بجالانے والے ہوتے ہیں اُن کے دشمنوں کا بھی خدا تعالی دشمن ہو جاتا ہے اور اُن کے دوستوں کا دوست ہوتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جو بھی کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اُس میں برکت ڈالتا ہے اُن کو کامیابیاں عطا فرماتا ہے۔پس خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جو اس کوشش میں رہتے ہیں کہ جب موت آئے تو ایسی حالت میں آئے کہ خدا تعالیٰ کے فرمانبردار اور حقیقی مسلمان بننے کی کوشش ہو۔ہم احمدیوں کے لئے تو یہ نصیحت ہے ہی اور ہمیں اس کی کوشش میں لگارہنا چاہئے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرماتے ہوئے زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے کہ آخرین میں جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے نبی مبعوث ہو گا