خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 233
خطبات مسر در جلد 11 233 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اپریل 2013ء اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو سامنے رکھنا چاہئے کہ قُولُوا لِلنَّاسِ حُسُنا (البقرة:84)۔کہ لوگوں سے نرمی سے ، ملاطفت سے، بشاشت سے ملو۔اگر عہد یداروں کے ایسے رویے ہوں تو بعض جگہوں سے عہد یداروں کے متعلق جو شکایات ہوتی ہیں وہ خود بخود ختم ہو جا ئیں۔پھر ایک عہدیدار کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ اُس کا اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ حسن سلوک ہو۔جماعت کے عہدے کوئی دنیاوی عہدے تو نہیں ہیں کہ افسران اور ماتحت کا سلوک ہو۔ہر شخص جو جماعت کی خدمت کرتا ہے چاہے وہ ماتحت ہو، ایک جذبے کے تحت جماعت کے کام کرتا ہے۔پس افسران کو اور عہدیداران کو اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا چاہئے۔اگر غلطی ہو تو پیار سے سمجھا ئیں، نہ کہ دنیاوی افسروں کی طرح سختی سے باز پرس ہو۔ہاں اگر کوئی اس قدر ڈھٹائی دکھا رہا ہے کہ جماعتی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے تو پھر اُس کو مناسب طریق سے جو بھی تنبیہ ہے وہ کریں یا باز نہیں آتا تو پھر اُس سے کام نہ لیں۔بالا افسران کو اطلاع دیں۔بیشک فارغ کر دیں۔لیکن ایسی فضا پیدا نہیں ہونی چاہئے کہ بلا وجہ دفتروں میں یا کام کرنے والی جگہوں پر گروہ بندی کی صورتحال پیدا ہو جائے۔عہد یداروں میں اعلیٰ اخلاق کے اوصاف میں سے مہمان کی عزت کا وصف بھی ہونا چاہئے۔یہ بھی ایک اعلیٰ خلق ہے۔ہر شخص جو عہدیدار کو ملنے آتا ہے، اُس کے دفتر میں آتا ہے، اُس سے عزت واحترام سے ملنا چاہئے اور عزت و احترام سے بٹھانا چاہئے۔یہ بہت ضروری چیز ہے۔اگر دفتر میں آیا ہے تو کھڑے ہو کر ملنا چاہئے۔یہ اخلاق منتخب عہدیداران کے لئے بھی ہیں اور مستقل جماعت کے کارکنان کے لئے بھی ضروری ہیں۔اس سے عزت بڑھتی ہے، کم نہیں ہوتی۔پھر عہد یداروں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت تواضع اور عاجزی بھی ہے۔اور یہ عاجزی ایک احمدی کو بھی، عموماً عام آدمی کو بھی اپنی فطرت کا خاصہ بنانی چاہئے۔لیکن ایک عہد یدار کو تو خاص طور پر اپنے اندر تواضع اور عاجزی پیدا کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ولا تمنيش في الْأَرْضِ مَرَحًا ( بنی اسرائیل : 38 )۔کہ اور تم زمین میں تکبر سے مت چلو۔ایک عام انسان کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں۔تو جو لوگ خدا تعالیٰ کی خاطر اپنی خدمات پیش کر رہے ہوں اُن کے لئے ایک لحہ کے لئے بھی خدا تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں ہو سکتا۔پس اس خصوصیت کو ہمارے تمام عہدیداروں کو زیادہ سے زیادہ اپنا نا چاہئے اور ہر ملنے والے سے انتہائی عاجزی سے ملنا چاہئے۔پھر یہ بھی خاص طور پر وہ عہدیدار جن کے سپر دفیصلوں کا کام ہے، لوگوں کے درمیان صلح صفائی کروانے کا کام ہے، اصلاحی کمیٹیاں ہیں یا قضاء ہے یا درکھیں کہ یہ جواللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اِعْدِلُوا