خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 232
خطبات مسرور جلد 11 232 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اپریل 2013ء امانت کے حق ادا کرنے کا صحیح طریق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مال کے آنے کی یا اُس کی فراوانی کی کوئی فکر نہیں تھی صحیح خرچ کرنے والوں کی فکر تھی۔پس امراء اور متعلقہ عہد یداران اس بات کا خاص خیال رکھیں۔پھر ایک عہدیدار کی ایک خصوصیت یہ ہونی چاہئے ، گو کہ ہر مومن کی یہ نشانی ہے لیکن جن کے سپرد جماعتی ذمہ داریاں کی جاتی ہیں اُن کا سب سے بڑھ کر یہ کام ہے کہ لغویات سے پر ہیز کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون :4)۔یعنی مومن وہ ہیں جولغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔اور مومنین میں سے جو بہترین ہیں اُن کا معیار تو بہت بلند ہونا چاہئے کہ وہ ہر طرح کی لغویات سے اپنے آپ کو بچائیں۔نہ فضول گفتگو ہو، نہ ایسی مجلسیں ہوں جن میں بیٹھ کر ہنسی ٹھیٹھا کیا جارہا بعض عہدیداران بھی ہوتے ہیں جو آپس میں بیٹھتے ہیں اور دوسروں کے متعلق باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ہنسی ٹھٹھا کیا جا رہا ہوتا ہے۔پس ان سے بچنا چاہئے۔اور نہ ہی ایسی مجلسوں میں عہد یداروں کو شامل ہونا چاہئے جہاں دینی روایات کا خیال نہ رکھا جا رہا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ہو۔اس کے یہی معنی ہیں کہ مومن وہی ہیں جو لغو تعلقات سے اپنے تئیں الگ کرتے ہیں۔اور لغو تعلقات سے اپنے تئیں الگ کرنا خدا تعالیٰ کے تعلق کا موجب ہے۔گو یا لغو باتوں سے دل کو چھڑانا خدا سے دل کو لگا لینا ہے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 199-200) پس تقویٰ کا معیار بھی تبھی بلند ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہو۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بخل بھی ایک ایسا اظہار ہے جو کسی مومن کو زیب نہیں دیتا۔عہد یدار اسراف سے تو بچیں، خرچوں میں اعتدال تو رکھیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بخیل اور کنجوس ہو جائیں۔جہاں ضرورت ہو اور جائز ضرورت ہو ، وہاں خرچ کرنا بھی چاہئے۔لیکن یہ نہ ہو کہ کسی کے لئے تو بہت کھلا ہاتھ رکھ لیا اور کسی کے لئے ہاتھ بالکل بند ہو جاتے ہیں۔عہد یدار کی خاص طور پر ایک خوبی یہ بھی ہونی چاہئے کہ تحاظِمِينَ الْغَيْظَ ( آل عمران:135) غصہ پر قابو ہو۔اللہ تعالیٰ نے یہ خاص حکم دیا ہے کہ بیشک بعض دفعہ بعض حالات میں غصہ کا اظہار ہو جاتا ہے لیکن غصہ کو دبانے والے ہوں۔جہاں جماعتی مفاد ہو گا، وہاں بعض دفعہ اصلاح کی غرض سے غصہ دکھانا بھی پڑتا ہے۔لیکن ذرا ذراسی بات پر غصہ میں آنا اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی عزت کا خیال نہ رکھنا یہ ایک عہدیدار کے لئے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے، نہ ہونا چاہئے۔بلکہ ایک اچھے عہد یدار کو