خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 209 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 209

خطبات مسرور جلد 11 209 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 اپریل 2013ء اتحاد اور اتفاق کو بہت ترقی دینی چاہئے اور ادنی ادنی باتوں کو نظر انداز کر دینا چاہیے جو کہ پھوٹ کا باعث ہوتی ہیں۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 93 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس پہلی بات جو خانہ خدا کے حوالے سے یا د رکھنی چاہئے کہ یہ خانہ خدا ہے اور ہر احمدی نے جو اس علاقے میں رہتا ہے، اس میں باجماعت نمازوں کی طرف توجہ کر کے اس کا حق ادا کرنا ہے۔اور با جماعت عبادت کا حق پھر اس طرف توجہ دلانے والا ہو کہ ہم نے محبت اور پیار اور اتفاق سے رہنا ہے۔فرما یا کہ اس وقت اتحاد اور اتفاق کو بہت ترقی دینی چاہئے۔یہ بات آج سے تقریباً ایک سو آٹھ سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کی تربیت جس طرح ساتھ ساتھ ہو رہی تھی اور اُن کا تقویٰ جس معیار پر تھا وہ آج سے انتہائی بلند تھا۔خدا کا خوف اُن میں زیادہ تھا۔نمازوں کی توجہ اُن میں بہت بڑھ کر تھی۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والے وہ لوگ تھے جن کا خدا تعالیٰ سے ایک خاص تعلق تھا۔لیکن نبی کا کام ہے کہ تقویٰ کی تمام باریکیوں کو اپنے ماننے والوں کے سامنے رکھ کر اُن کو اعلیٰ معیار کی طرف رہنمائی کرے۔اس لئے آپ نے ہر امکان کو کھول کر اپنے ماننے والوں کے سامنے رکھ کر نصیحت فرمائی کہ اس طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔آپ علیہ السلام کو فکر تھی کہ یہ ابتدائی دور ہے۔اگر اس میں معیار تقویٰ بلند نہ ہوا تو آئندہ آنے والوں کے سامنے ایسے نمونے نہیں ہوں گے جس سے وہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کریں۔میں نے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعات کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، اس میں بہت زیادہ تشنگی رہ گئی ہے کیونکہ تمام صحابہ کے واقعات ہمارے سامنے نہیں آئے اور جو آئے وہ بھی بہت کم اور مختصر تھے۔لیکن جو سامنے آئے وہی ایسے معیار کے ہیں جو صحابہ کے لئے دعاؤں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔اور اُن صحابہ کی نسل میں سے جو بعض شاید یہاں چین میں بھی رہنے والے ہوں، اُن کو خاص طور پر اپنے بزرگوں کے لئے دعاؤں اور اُن کے نمونوں پر چلنے کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور یہاں اس ملک میں تو ہم نے ابھی بے انتہا کام کرنا ہے۔اُس کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ قائم کرنا ہے جو آج سے کئی صدیاں پہلے کھوئی گئی۔یہاں رہنے والوں کو دوبارہ دینِ اسلام کی خوبیاں بتا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانا ہے اور اس کے لئے سب سے اہم چیز اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنا، اُس سے مدد مانگنا اور ایک اکائی بن کر تبلیغ کا کام کرنا ہے۔