خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 199
خطبات مسرور جلد 11 199 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 مارچ 2013ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ خانہ کعبہ کی دیواریں استوار کر رہے تھے تو یہ دعا مانگ رہے تھے کہ ربنا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔پس یہ شان ایک حقیقی اللہ والے کی ہے اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہی اللہ تعالیٰ کے قریب اور اللہ والے ہوتے ہیں کہ سالوں سے قربانیاں کر رہے ہیں ، باپ بھی قربانی کر رہا ہے، بیٹا بھی قربانی کر رہا ہے، بیوی بھی قربانی کر رہی ہے لیکن یہ نہیں کہہ رہے کہ ہمیں اتنا عرصہ ہو گیا ہے قربانیاں کرتے ہوئے ، اب ہم تیرے اس گھر کو بنارہے ہیں، تیری خاطر بنار ہے ہیں، تیرے کہنے پر بنا رہے ہیں، اس لئے ہمارا حق بنتا ہے کہ ہماری ہر قربانی کو آج قبول کر اور قبول کر کے ہمارے لئے آسانیاں اور آسائشیں پیدا فرما۔جماعت احمدیہ میں تو اس کا رواج نہیں ہے لیکن دوسرے مسلمانوں میں تو یہ رواج ہے کہ ذراسی قربانی کی اور قربانی کے بعد پھر یہ کوشش ہوتی ہے کہ پھر اعلان کیا جائے۔ایک روپیہ، دوروپے، چار روپے دے کر پھر مسجدوں میں اعلان ہوتے ہیں اور اگر بڑی قربانی ہو تو بہت زیادہ فخر کیا جاتا ہے۔لیکن جو نمونہ ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ نے ان دونبیوں کے ذریعہ سے پیش فرمایا وہ یہ ہے کہ بیٹا خدا تعالیٰ کی خاطر ذبح ہونے کو تیار ہے، باپ بیٹے کو اللہ تعالیٰ کی خاطر ذبح کرنے کو تیار ہے۔اور یہ سب کچھ اُس وقت ہو رہا ہے جب بیٹا چھوٹی عمر کا ہے اور بڑھاپے کی اولاد ہے۔پھر قربانی کا معیار آگے بڑھتا ہے تو ایک لمبا عرصہ بیوی اور بیٹے کو غیر آباد جگہ میں قربانیاں کرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ بھوک اور پیاس سے دونوں ماں بیٹا شاید زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔اور پھر وہ وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ بیٹے اور بیوی کی قربانی قبول فرماتا ہے۔اگر اُن کے لئے پہلے سامان نہیں تھے تو پھر اُن کے لئے کھانے پینے کے سامان مہیا فرما تا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے خانہ کعبہ کی تعمیر بھی شروع ہو جاتی ہے اور تعمیر کرنے والے بھی صرف دو اشخاص ہیں جو یہ عہد کر رہے ہیں کہ اس کی تعمیر کے ساتھ اب واپسی کے ہمارے تمام راستے بند ہیں۔اب ہمارا مقصد خدا تعالیٰ کے گھر کو آباد کرنا ہے۔یہاں ایسی آبادی بنانی ہے جو مومنین کی آبادی ہو ، جو نیک لوگوں کی آبادی ہو، جو خدا تعالیٰ کو یاد کرنے والوں کی آبادی ہو، جو اُس کی عبادت کا حق ادا کرنے والوں کی آبادی ہو۔ایسی آبادی بنانی ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کی انتہا کو پہنچنے والی ہو۔پس یہ لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ تعالیٰ کا گھر بنارہے تھے اور عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا یہ حال ہے کہ یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس قربانی کو ، اس کوشش کو قبول فرمالے۔اپنے خاص رحم سے ہم پر رحم کرتے ہوئے اُسے قبول کر لے کہ یہ قبولیت ہمیں تیرے اور قریب کرنے والی بن جائے۔