خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 198
خطبات مسرور جلد 11 198 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 مارچ 2013ء عاقبت سنوار نے والے بنائیں اور اس علاقے میں خاص طور پر اس کی کوشش کریں۔جیسا کہ میں نے کہا یہاں صوبے میں سب سے زیادہ لمبے عرصہ تک اسلام کو محفوظ اور قائم رکھنے کی کوشش کی گئی۔یہاں سے مسلمانوں کے اخراج کی سات صدیاں نہیں منائی جاتیں بلکہ یہی مانا جاتا ہے کہ سب سے آخر میں چار صدیاں پہلے یہاں سے مسلمانوں کو نکالا گیا تھا۔یا مسلمانوں کی نسل ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔یقیناً اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں صدیوں مسلمانوں کی حکومت قائم رہنے کے بعد اُس کا زوال مسلمانوں کی اپنی لالچوں اور سازشوں کی وجہ سے ہوا۔جو بھی نام کی خلافت تھی، اُس سے بھی وفا نہیں کی گئی۔نہ خلیفہ یا بادشاہ نے اپنی ذمہ داری کا حق ادا کیا، نہ ہی اُس کے خواص اور امراء جو تھے انہوں نے حق ادا کیا اور پھر ہر ایک نے اپنی اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنالی تھی۔اور یہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر مختلف بادشاہتیں قائم کرنے کی کوشش کی گئی اور پھر وہی نتیجہ نکلا جو ایسے خود غرضانہ کاموں کا نکلتا ہے۔لیکن اب مسیح محمدی جو خاتم الخلفاء ہیں، جو خلافتِ راشدہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی علمبردار ہیں، جن کے بعد پھر خلافت کا نظام جاری ہے، ان کے ماننے والوں کا کام ہے کہ اس کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ اس علاقے میں، اس ملک میں قائم کریں، بلکہ دنیا کو لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کی حقیقت سے روشناس کروایا جائے ، اُس کی حقیقت دنیا کو بتائی جائے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس علاقے میں اپنی مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔جگہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی باموقع ملی ہے۔یہ مسجد بھی موٹر وے سے نظر آتی ہے۔بالکل موٹر وے کے اوپر ہے لیکن شہر کی نئی آبادی میں بھی ہے۔یہ اچھے شرفاء کا علاقہ ہے۔ہمسائے بھی اچھے اور شریف ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمسائیگی بھی اچھی عطا فرمائی ہے یہ بھی اُس کا بڑا احسان ہے۔پس اس موقع سے ہمیں فائدہ اُٹھانا چاہئے۔مسجد بنا کر صرف اس بات پر خوش نہ ہو جائیں کہ سپین کے ایک اور شہر میں ہماری خوبصورت مسجد بن گئی۔پس اپنی حالتوں پر بھی نظر رکھنی ہوگی ، اپنی عبادتوں پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔اپنی ذمہ داریوں پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں، ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کے بعد اُس کا حق ادا کرنے کا ایک خوبصورت طریق ہمیں بتا دیا۔اور ساتھ ہی حق ادا کرنے کیلئے دعاؤں کا طریق اور اُس طرف توجہ بھی دلا دی۔پس اس پر غور کرنے کی ہمیں ضرورت ہے تا کہ نسلاً بعد نسل اللہ تعالیٰ کے گھر کا حق ادا کرنے والے ہم میں سے پیدا ہوتے چلے جائیں۔