خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 200
200 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 مارچ 2013ء خطبات مسرور جلد 11 پس یہ سبق قربانی کر کے پھر عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر اُس قربانی کو قبول کرنے کی درخواست اور دعا کا ہے۔اور یہی اصول ہے جو ہمیں بھی ہر وقت اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔یہ ابراہیمی اور اسماعیلی سوچ اور دعا ہے جو آج ہمیں اس طرف توجہ دلا رہی ہے۔ہم جو اس زمانے کے ابراہیم کی طرف منسوب ہونے والے ہیں ، جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت اور عشق ومحبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے وہ اعزاز بخشا ہے کہ اس زمانے کا ابراہیم بنادیا، جس نے دین کو اُس کی اصل دیواروں پر دوبارہ استوار کر کے دکھایا اور ہم گواہ ہیں اور ہم روز نظارے دیکھتے ہیں کہ ایسا استوار کیا کہ اگر اُس پر کوئی صحیح طرح عمل کرنے والا ہو تو اُس کی کایا پلٹ جاتی ہے۔دینِ اسلام کی خوبصورتی کو اس طرح چمکا کر پر عظمت اور پر شوکت بنا کر دکھایا کہ غیر مسلم بھی کہنے لگ گئے کہ اگر یہی اسلام ہے جو تم پیش کرتے ہو تو ہم اسلام کے خلاف اپنے کہے ہوئے الفاظ واپس لیتے ہیں۔پس آج اس ابراہیم کے ذریعہ خانہ کعبہ کی تعمیر کے مقاصد بھی پورے ہو رہے ہیں اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کی روشنی بھی دنیا پر ظاہر ہو رہی ہے۔اور انہی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے دنیا میں ہماری ہر تعمیر ہونے والی مسجد گواہ ہے اور ہونی چاہئے اور آج یہی مسجد جس کا نام بیت الرحمن رکھا گیا ہے، اس مقصد کے حصول کا ذریعہ بننے کا اظہار کر رہی ہے۔پس یہ مسجد جہاں ہمیں عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اُس کی تعمیر کے مقصد کو پورا کرنے کی طرف توجہ دلا رہی ہے، وہاں ہمیں اس طرف بھی توجہ دلا رہی ہے کہ ہم اپنے عہد کو پورا کریں۔اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔اگر ہم اپنے عہدوں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں گے تو پھر ہی ہم اپنے مقاصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ اے مسیح محمدی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق ! ہم نے جو آپ سے عہد بیعت باندھا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اور تو حید کو دنیا میں پھیلائیں گے تو اس مسجد کی تعمیر کی وجہ سے جو دنیا کی اسلام کی طرف توجہ پیدا ہوگی تبلیغ کے جو راستے کھلیں گے، اُن کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے توحید کا قیام اور ملک کے باشندوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانا ہمارا اولین فرض ہوگا۔انشاء اللہ۔پس اے خدا! اے سمیع اور علیم خدا! ہماری دعائیں سن لے۔ہمیں اپنے فرائض نبھانے کی توفیق عطا فرما۔یہ مسجد جو تیرے گھر کی تتبع میں بنائی گئی ہے، اس کو اُن مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنا جو تیرے گھر بنانے کے مقاصد ہیں۔تو علیم ہے، تو ہماری کمزوریوں اور نا اہلیوں کو بھی جانتا ہے۔پس ہماری دعائیں سنتے