خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 197

خطبات مسر در جلد 11 197 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 مارچ 2013ء پس یہ ذمہ داری ہے کہ جہاں ہم عام تبلیغ کریں اور اسلام کا پیغام پہنچا ئیں ، وہاں ایسے قبائل کا بھی کھوج لگائیں اور پھر اُن میں اُن کے اصل دین کی محبت نئے سرے سے پیدا کر کے اُن کو کامیاب مبلغ بنا دیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ویلنسیا کی تاریخی اہمیت کی وجہ سے میں نے یہاں مسجد بنانے کو ترجیح دی تھی۔اس لئے کہ جب سپین میں ظالم بادشاہ اور ملکہ نے زبر دستی مسلمانوں کو عیسائی بنانا شروع کیا تھا، ویلنسیا اُس زمانے میں بھی وہ علاقہ تھا جہاں باوجود مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی کے عربی بولی جاتی تھی ، اسلامی رسم ورواج کو قائم رکھا ہوا تھا۔عملاً مسلمان اپنی عبادات ہی بجالاتے تھے اور جو بھی اسلامی تعلیم ہے اُس کو قائم رکھے ہوئے تھے۔جبکہ دوسرے علاقوں میں مسلمان گروپ کی صورت میں تو رہتے تھے لیکن کسی بھی قسم کا ایسا اظہار نہیں کرتے تھے جس سے اسلام کھل کر اُن سے ظاہر ہوتا ہو۔اسی وجہ سے جب سترھویں صدی کے شروع میں اُس وقت کے بادشاہ نے مسلمانوں کو یا اُن لوگوں کو جن کے خاندان پہلے مسلمان تھے، سپین سے نکالنے کی مہم پھر سے شروع کی تو سب سے پہلے منصوبے کا آغاز ویلنسیا سے کیا۔کیونکہ یہاں جیسا کہ میں نے کہا مسلمان اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے اُس پر عمل کر رہے تھے۔یا جس حد تک عمل کر سکتے تھے، کرنے کی کوشش کرتے تھے۔گو کہ اُس وقت یہاں مسلمانوں کی حالت معاشی لحاظ سے کافی کمزور تھی اور اُن کو آہستہ آہستہ بڑے شہروں سے نکال کر شہروں کے ارد گرد کے علاقوں میں بسا دیا گیا تھا۔معمولی جائیدادیں اُن کے پاس تھیں ، غربت تھی لیکن پھر بھی ان کا اسلام سے تعلق تھا۔بہر حال مختلف قسم کی فوجیں یہاں آتی رہیں ، اٹلی کی فوجیں بھی آئیں، انہوں نے ظلموں کا نشانہ انہیں بنایا لیکن فیصلہ کے مطابق ان ظلموں کے بعد بالغوں کو ملک بدر کر دیا گیا اور اُن کے بچوں کو عیسائیوں کے سپرد کر دیا گیا جنہوں نے ان بچوں کو اپنے گھروں میں پروان چڑھایا لیکن اپنے بچوں کی طرح نہیں بلکہ نوکروں اور غلاموں کی طرح۔پس وہ بچے جو اسلام سے چھینے گئے تھے، وہ بچے جو مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوئے اور مسلمان تھے ، انہیں اُن کی اور اُن کے ماں باپ کی مرضی کے بغیر خدائے واحد کی عبادت سے روکا گیا اور اس کے بجائے تثلیث کو ماننے پر مجبور کیا گیا۔آج ہمارا کام ہے کہ اُن بچوں کی نسلوں کو دوبارہ خدائے واحد کی عبادت کرنے والا بنا ئیں اور صرف انہیں نہیں بلکہ یہاں رہنے والے ہر شخص کو جس سے ہمیں انسانیت سے محبت کی وجہ سے محبت ہے۔ہر شہری جو یہاں رہتا ہے، اُس سے ہمیں محبت ہے اس لئے کہ ہم انسانیت سے محبت کرنے والے ہیں اور انسانیت کی محبت کی وجہ سے ہم اُن کے لئے وہی پسند کرتے ہیں جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔ان لوگوں کو اس وجہ سے خدائے واحد کی عبادت کرنے والا بنا کر اُن کی دنیا اور