خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 169
خطبات مسرور جلد 11 169 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2013ء یا تو بے حس ہے، ( پاکستان کی میں بات کر رہا ہوں ) یا خوفزدہ ہے۔اسی طرح ہندوستان کے بعض علاقوں میں بھی ہو رہا ہے۔یہ سب کچھ دیکھ کر پھر بھی یہ لوگ سبق حاصل نہیں کرتے کہ ان نام نہاد اسلام کا درد رکھنے والوں کی جو ذلت ہورہی ہے یا ہوتی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے فرستادے کی دشمنی کی وجہ سے ہے اور غور کریں تو یہی چیز ان کے لئے عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔دنیا کے دوسرے ممالک میں جیسا کہ میں نے کہا افریقہ میں بھی بعض دفعہ دشمنیاں ہیں لیکن مسلمان اپنے علماء کی جب یہ گھٹیا حالت دیکھتے ہیں تو پھر یہ احمدیت کی طرف رجوع کرتے ہیں۔افریقہ میں بہت سے علاقوں میں تو احمدیت پھیلی بھی اس وجہ سے ہے۔اپنے علماء کی حالت دیکھ کر انہوں نے صحیح دین کو پہچانا ہے۔ان میں یہ جرات ہے کہ اپنے ان نام نہاد علماء کی حرکتوں سے سبق حاصل کریں اور حق کی تلاش کریں۔بہر حال میں احمدیوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مخالفین احمدیت کی حرکتوں اور کمینگیوں سے پریشان نہ ہوں۔گزشتہ دنوں مجھے کسی احمدی نے پاکستان سے لکھا کہ ہمارے علاقے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کا زور اس قدر ہے اور اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ دشمن ہر اوچھی حرکت کرنے پر تلا بیٹھا ہے۔یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر بگاڑ کر یا تصویر کے ساتھ بڑا توہین آمیز سلوک کر کے ہمارے دلوں کو چھلنی کر رہے ہیں۔یہ جہالت جو ہم دیکھتے ہیں تو اب برداشت نہیں ہوتا۔لگتا ہے کہ دل پھٹ جائے گا۔اتنے غلیظ پوسٹر دیواروں پر لگا رہے ہیں کہ بعض غیر از جماعت جو شرفاء ہیں اُن کی دیواروں پر جو پوسٹر لگے ہوئے تھے، انہوں نے بھی وہ اتار دیئے کہ اب یہ انتہا ہو رہی ہے۔تو یہ لکھتے ہیں کہ یہ دیکھ کر بے ساختہ روتے ہوئے چینیں نکل جاتی ہیں۔میں نے اُن کو بھی لکھا ہے کہ صبر اور دعا سے کام لیں۔ہمیں دشمن کے شور وفغاں میں بڑھنے، بیہودگیوں میں بڑھنے کے بعد یارِ نہاں میں نہاں ہونے کا سبق ملا ہے۔پس ہمیں اس سبق کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور دعاؤں میں پہلے سے بڑھ کر کوشش کرنی چاہئے۔یہ خدا تعالیٰ سے تعلق بڑھا کر اُس میں فنا ہونے کا سبق ہے۔ایسے لوگ اپنی موت کو خود دعوت دینے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فرستادوں کی اہانت کرنے والے ہمیشہ ہی تباہ و بر باد ہوئے ہیں۔یہ لوگ بھی اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو جس طرح لیکھو پر دعا کی تلوار چلی تھی ، ان پر بھی اللہ تعالیٰ کے اذن سے چلے گی۔پس اپنے دکھ، اپنے درد، اپنی چیچنیں خدا تعالیٰ کے حضور پیش کریں۔اللہ تعالیٰ ایسے شریروں کو عبرت کا نشان بنائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مجلس میں جو 19 را پریل 1904 ء کی ہے فرمایا کہ: میں اپنی جماعت کے لئے اور پھر قادیان کے لئے دعا کر رہا تھا تو یہ الہام ہوا“۔” زندگی کے