خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 170
خطبات مسرور جلد 11 170 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2013ء فیشن سے دور جا پڑے ہیں۔فَسَخِفْهُمْ تَسْحِيقًا۔فرمایا میرے دل میں آیا کہ اس پیس ڈالنے کو میری طرف کیوں منسوب کیا گیا ہے؟ اتنے میں میری نظر اُس دعا پر پڑی جو ایک سال ہوا بیت الدعا پر لکھی ہوئی ہے۔اور وہ دعا یہ ہے۔يَارَب فَاسْمَعُ دُعَائِي وَ مَزْقُ أَعْدَا نَكَ وَ أَعْدَا لِي وَالْجِزُ وَعْدَكَ وَانْصُرْ عَبْدَكَ وَارِنَا أَيَّامَكَ وَشَهرُ لَنَا حُسَامَكَ وَ لَا تَذَرُ مِنَ الْكَافِرِينَ شَرِيرًا " 66 (یعنی) ”اے میرے رب ! تو میری دعا سن اور اپنے دشمنوں اور میرے دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور اپنا وعدہ پورا فرما اور اپنے بندے کی مددفرما اور ہمیں اپنے دن دکھا۔اور ہمارے لئے 66 اپنی تلوار سونت لے اور انکار کرنے والوں میں سے کسی شریر کو باقی نہ رکھ۔“ انکار کرنے والے بہت سارے ہوتے ہیں لیکن بعض انکار کرنے والے شریر ہوتے ہیں جو اپنی شرارتوں میں انتہا کو پہنچے ہوتے ہیں۔پس یہ دعا اُن کے لئے ہے۔فرمایا کہ: اس دعا کو دیکھنے اور اس الہام کے ہونے سے معلوم ہوا کہ یہ میری دعا کی قبولیت کا وقت ہے۔پھر فرمایا ہمیشہ سے سنت اللہ اسی طرح پر چلی آتی ہے کہ اُس کے ماموروں کی راہ میں جولوگ روک ہوتے ہیں اُن کو ہٹادیا کرتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے بڑے فضل کے دن ہیں۔ان کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان اور یقین بڑھتا ہے کہ وہ کس طرح اُن امور کو ظاہر کر رہا ہے۔“ ( تذکره صفحه 426 427 مع حاشیہ - نظارت اشاعت ربوہ۔2004ء) اور یہ نظارے آج بھی اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو دکھا رہا ہے۔ایک طرف یہ گالیاں ہیں، دوسری طرف ترقیات ہیں۔بیشک ملک میں شرفاء بھی ہیں، ایسے بھی ہیں جیسا کہ میں نے کہا، جو پوسٹروں کو اپنے گھروں کی دیواروں پر سے اُتارنے والے ہیں۔لیکن ان میں جواکثریت ہے اُن میں گونگی شرافت ہے۔جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرمایا کرتے تھے کہ شرافت تو ہے لیکن گونگی شرافت ہے جو بولتی نہیں۔(ماخوذ از خطبات ناصر جلد ہشتم صفحہ 376 خطبہ جمعہ 28 ستمبر 1979 ء نظارت اشاعت ربوہ ) لیکن ایک پڑھا لکھا طبقہ جو انگریزی اخباروں میں لکھتا ہے، انہوں نے اب اس حد سے بڑھے ہوئے ظلم کے خلاف آواز بھی اُٹھانا شروع کر دی ہے۔بہر حال ملک کو بچانے کے لئے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ الہامی دعا بھی پڑھنی چاہئے تا کہ شر پسندوں کا خاتمہ ہو۔ملک کی شریف آبادی اُن شر پسندوں کے شر سے محفوظ رہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ احمدی ان شر پسندوں کے شر سے