خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 155
خطبات مسرور جلد 11 155 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 مارچ 2013ء وہاں بھی ظاہر و باطن کی اچھی چیز دے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی وضاحت ایک جگہ اس طرح فرمائی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ آخرت میں تو حَسَنَه ہی ہے۔جب انسان آخرت کی دعا مانگ رہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اگر قبول کر لی تو حسنہ ہے۔تو وہاں کی ظاہر و باطن کی اچھائی سے کیا مراد ہے۔اس کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ آخرت میں تو سب چیزیں گو اچھی ہیں لیکن آخرت میں بھی بعض چیزیں ایسی ہیں جو باطن میں اچھی ہیں مگر ظاہر میں بری ہیں۔مثلاً دوزخ ہے۔قرآنِ کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ انسان کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ایک لحاظ سے وہ بری چیز بھی ہے۔پس جب آخرت کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے حسنہ کا لفظ رکھا تو اس لئے کہ تم یہ دعا کرو کہ الہی ! ہماری اصلاح دوزخ سے نہ ہو بلکہ تیرے فضل سے ہو۔اور آخرت میں ہمیں وہ چیز نہ دے جو صرف باطن میں ہی اچھی ہے۔جیسے دوزخ باطن میں اچھا ہے کہ اس سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔مگر ظاہر میں برا ہے کیونکہ وہ عذاب ہے۔آخرت میں حسنہ صرف جنت ہے جس کا ظاہر بھی اچھا ہے اور باطن بھی اچھا ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 2 صفحه 446) یہاں یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ اس دنیا کی حسنه آخرت کی حسنہ کا بھی باعث بنتی ہے۔اگر اس دنیا میں ہر چیز جس کا ظاہر بھی اچھا ہے اور باطن بھی اچھا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا دلانے والا ہے تو آخرت میں بھی ایسی حسنہ ملے گی جس کا ظاہر بھی اچھا ہو اور باطن بھی اچھا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : ”انسان اپنے نفس کی خوشحالی کے واسطے دو چیزوں کا محتاج ہے۔ایک دنیا کی مختصر زندگی اور اس میں جو کچھ مصائب، شدائد، ابتلاء وغیرہ اسے پیش آتے ہیں ان سے امن میں رہے۔دوسرے فسق و فجور اور روحانی بیماریاں جو اُ سے خدا تعالیٰ سے دور کرتی ہیں ان سے نجات پاوے۔تو دنیا کا حسنہ یہ ہے کہ کیا جسمانی اور کیا روحانی دونوں طور پر یہ ہر ایک بلا اور گندی زندگی اور ذلت سے محفوظ رہے۔خُلق الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء: 29)۔( یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے )۔فرمایا کہ ایک ناخن ہی میں درد ہو تو زندگی بیزار ہو جاتی ہے۔فرمایا: ”اسی طرح جب انسان کی زندگی خراب ہوتی ہے۔( مثلاً ) جیسے بازاری عورتوں کا گروہ (ہے) کہ اُن کی زندگی کیسے ظلمت سے بھری ہوئی (ہے) اور بہائم کی طرح ہے“ (جانوروں کی طرح کی زندگی ہے ) کہ خدا اور آخرت کی کوئی خبر نہیں۔تو دنیا کا حسنہ یہی ہے کہ خدا ہر ایک پہلو سے خواہ وہ دنیا کا ہو، خواہ آخرت کا ، ہر ایک بلا سے محفوظ رکھے۔اور فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ میں