خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 154
خطبات مسرور جلد 11 154 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 مارچ 2013ء مبلغین کو دھمکیاں بھی دیں، دیتے بھی رہتے ہیں، فون بھی کرتے رہتے ہیں۔ہم یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے۔ہمارے خلاف پراپیگینڈہ بھی کرتے ہیں کہ ان کی باتیں نہ سنو، یہ کافر ہیں اور فلاں ہیں اور فلاں ہیں۔بعض اپنی انتہا کوبھی پہنچ جاتے ہیں تو وہاں ایک ایسی صورتحال پیدا ہوگئی جو بے انتہا تھی یعنی مخالفت اور دشمنی بہت زیادہ بڑھی ہوئی تھی۔اُس پر وہاں کے بعض اچھے سلجھے ہوئے ، اثر ورسوخ رکھنے والے غیر از جماعت لوگوں کو جب پتہ لگا تو انہوں نے ہمارے مبلغ کو پیغام بھیجا کہ بالکل فکر نہ کرو اور اپنا کام کئے چلے جاؤ۔یہی اسلام حقیقی اسلام ہے جو تم لوگ پھیلا رہے ہو اور کوئی تمہیں اس سے روک نہیں سکتا۔تو یہ اچھے دوست اللہ تعالیٰ ہر جگہ عطا بھی فرما تارہتا ہے جو گو خود احمدی نہ بھی ہوں تو احمدیت کے پھیلانے میں، پیغام پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا یہ بھی حسنہ ہے۔پس حسنہ کو جتنی وسعت دیتے جائیں اُتنا ہی یہ کھلتا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے اس دنیاوی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہونے کے لئے اُس کے جتنے فضل اور بہتر انجام والی چیزیں مانگتے جائیں یہ سب حَسَنَه میں آتے چلے جاتے ہیں۔ذاتی زندگی میں اچھی بیوی ہے، اچھا خاوند ہے، نیک بچے ہیں، بیماریوں سے محفوظ زندگی ہے۔غرض کہ ہر چیز جس میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہمارے لئے بہتری اور فائدہ ہے، وہی دنیا کی حسنہ ہے۔اور یہی ایک مومن کا منشاء اور خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہر وہ چیز دے جو اُس کی ضرورت ہے۔ہر لحاظ سے اچھی ہو، ظاہری بھی اور باطنی لحاظ سے بھی۔کیونکہ غیب اور حاضر کا تمام علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اس لئے وہی بہتر فیصلہ کر سکتا ہے کہ ہمارے لئے ظاہری اور باطنی لحاظ سے کیا چیز بہتر ہے۔ہم تو کسی چیز کے چناؤ میں غلطی کھا سکتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ تو کسی قسم کی غلطی نہیں کھا سکتا۔ظاہر طور پر ہم کسی کو اچھا دوست سمجھتے ہیں لیکن وہی نقصان پہنچانے والا بن جاتا ہے۔کئی ایسے معاملات آتے ہیں جہاں لوگوں نے اپنے دوستوں پر بڑا اعتبار کیا ، کاروباروں میں شریک بنایا، لیکن وہی اُن کو نقصان پہنچانے والے بن گئے۔ہم کسی کو حاکم بنا دیتے ہیں وہی نقصان پہنچانے والا بن جاتا ہے۔علاوہ جماعتی رنگ کی پریشانیوں کے روز مرہ کے معاملات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ بعض باتیں ایسی کرتے ہیں جو پریشانی اور مشکل کا باعث بن جاتی ہیں۔پس صحیح رنگ میں ربّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کی دعا ہے جو اللہ تعالیٰ قبول فرمالے تو جماعتی بھی اور ذاتی پریشانیوں سے بھی انسان بچ سکتا ہے۔نہ صرف بچ سکتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا بھی وارث بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بھی بن سکتا ہے۔پھر فرمایا کہ وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ کہ آخرت میں بھی ہمیں ہر وہ چیز دے جو حَسَنَہ ہو۔یعنی