خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 156

خطبات مسرور جلد 11 156 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 مارچ 2013ء جو آخرت کا پہلو ہے ، وہ بھی دنیا کی حسنہ کا ثمرہ ہے۔(اُسی کا پھل ہے۔) ''اگر دنیا کا حَسَنه انسان کومل جاوے تو وہ فال نیک آخرت کے واسطے ہے۔یہ غلط ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کا حَسَنَہ کیا مانگنا ہے۔آخرت کی بھلائی ہی مانگو۔فرمایا کہ صحت جسمانی وغیرہ ایسے امور ہیں جس سے انسان کو آرام ملتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے وہ آخرت کے لئے کچھ کر سکتا ہے اور اس لئے ہی دنیا کو آخرت کا مزرعة کہتے ہیں ( یعنی آخرت کی کھیتی کہتے ہیں۔دنیا میں جو بوؤ گے وہی وہاں جا کے کاٹو گے۔) کہ در حقیقت جسے خدا دنیا میں صحت ، عزت، اولاد اور عافیت دیوے اور عمدہ عمدہ اعمال صالح اُس کے ہوویں تو امید ہوتی ہے کہ اُس کی آخرت بھی اچھی ہوگی۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 600 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) پھر اسی آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔یہ دعا کرو کہ ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔اس میں صرف آخرت کے عذاب نار کی طرف ہی توجہ نہیں دلائی گئی بلکہ اس سے بچنے کی دعا کرو جو اس دنیا کی بھی آگ ہے۔اس دنیا میں بھی آگ کا عذاب ہوتا ہے۔پس اس دعا میں دنیا اور آخرت دونوں کے عذاب نار سے بچنے کے لئے دعا سکھائی گئی ہے۔دنیا کے عذاب نار جو ہیں وہ بھی قسما قسم کے ہیں، مصیبتیں ہیں اور دکھ ہیں جو اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو عذاب کے بجائے حسنہ بن جاتے ہیں۔اس دنیا میں عذاب نار کی ایک مثال جیسا کہ میں نے ذکر کیا آجکل بعض ملکوں کے جو حالات ہیں وہ بھی ہیں۔کوئی پتہ نہیں کہ گھر بیٹھے یا بازار میں پھرتے ہوئے کہاں سے بندوق کی گولی آئے اور کوئی گولہ پھٹے اور انسان کو لہولہان کر دے یا اُس کی زندگی لے لے۔کئی جانیں اسی طرح ضائع ہو جاتی ہیں۔جہاں ایسی باتیں ہورہی ہوں عمل ہور ہے ہوں، اس طرح کی زندگی ہو تو وہاں جب کوئی عذاب نار سے بچاؤ کی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول کرتے ہوئے ان چیزوں سے بچالیتا ہے۔آجکل کے شرور جو دہشت گردوں نے پیدا کئے ہوئے ہیں، اُن سے بچنے کے لئے بھی یہ وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کی دعا ہے۔گزشتہ دنوں کراچی میں ہمارے ایک احمدی جوان آدمی ، چالیس پینتالیس سال کی عمر تھی ، سودا لینے کے لئے گھر سے نکلے اور دو چار منٹ کے بعد ہی وہاں بم دھما کہ ہوا جس میں پچھلے دنوں میں پچاس آدمیوں کی جان ضائع ہوئی ہے اُس میں وہ بھی شہید ہو گئے۔پس آجکل تو جگہ جگہ آگ کے پھندے ان دہشت گردوں نے لگائے ہوئے ہیں۔ان کے عذاب سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے بہت دعا کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ کس وقت کہاں کیا ہونا ہے۔اس لئے انسان اُس سے مانگے کہ میرا گھر میں رہنا اور میرا باہر نکلنا تیرے فضل سے