خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 152
خطبات مسرور جلد 11 152 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 مارچ 2013ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک وقت میں جماعت کے افراد کو یہ کہا تھا کہ خاص طور پر ہر نماز کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد جب کھڑے ہوتے ہیں تو اس میں یہ دعا پڑھا کریں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 16 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی خاص طور پر اس دعا کی طرف اپنے ایک خطبہ میں بلکہ مختلف خطبات میں توجہ دلائی اور جماعت کو پڑھنے کی تلقین فرمائی اور اس کی تفسیر بھی بیان فرمائی۔پس اس دعا کی بہت اہمیت ہے۔ویسے تو ہر دور اور ہر وقت کے لئے یہ دعا ہے لیکن آجکل خاص طور پر جب دنیا میں ہر طرف فتنہ وفساد کا دور دورہ ہے یہ دعا خاص طور پر ہمیں پڑھنی چاہئے۔حَسَنَه کا مطلب ہے کہ نیکی اور اچھائی ، فائدہ جس میں کوئی برائی اور نقصان نہ ہو، ایسا کام ہو جس کا ہر پہلو سے اچھا نتیجہ نکلتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہو۔احمدیوں کے لئے تو بعض مسلمان ملکوں میں بحیثیت احمدی بھی ایسے حالات ہیں کہ اس دعا کے پڑھنے کی خاص طور پر ضرورت ہے۔مخالفین احمدیت چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ہر نعمت سے احمدی کو محروم کر دیا جائے۔حتی کہ اُسے اُس کے جینے کے حق سے بھی محروم کر دیا جائے۔ایسے میں یہ دعا کہ اے اللہ ! ہمیں دنیا داروں کے سارے منصوبوں کے مقابلے میں اس طرح سنبھال لے کہ یہ جو تیری ہر قسم کی حسَنه سے ہمیں محروم کرنا چاہتے ہیں ، ہم ان کو تیرے فضلوں کی وجہ سے حاصل کرنے والے بن جائیں۔ہمارے دنیا کے اعمال بھی تیری رضا کے حصول کی وجہ سے ہمیں آخرت کی حسنہ سے بھی نواز نے والے ہوں۔اور ہر عمل جو ہم یہاں دنیا میں کرتے ہیں وہ تیری رضا کو حاصل کرنے والا ہو۔دشمن ہمارے کاروباروں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو ہمیں ایسے طریق پر حسنہ سے نواز کہ دشمن کے تمام منصوبے ناکام ہو جائیں۔وہ ہمیں ایمان سے پھیرنے کے لئے ہمارے رزق ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو ہمیں ایسے طریق سے حَسَنَہ سے نواز کہ پہلے سے بڑھ کر طیب اور حلال رزق حاصل ہو۔ہمارے ہمسائے ایسے ہوں جو ہمیں دکھ دینے والے نہ ہوں۔ہمارے محلہ دار ایسے ہوں جو ہمیں دکھ دینے والے نہ ہوں۔ہمارے شہروں کو ہمارے لئے حسنہ بنا دے۔ہمارے ملک کو ہمارے لئے حسنه بنادے۔ہمارے خلاف کاروائیاں کرنے والوں کے شرور جو ہیں اُن کی طرف پلٹ جائیں۔ہمارے حاکموں کو ایسا بنا دے جو رحم دل ہوں، تقویٰ سے کام لینے والے ہوں، انصاف کرنے والے ہوں۔بعض ملکوں میں مسلمان ملکوں میں آجکل ہم دیکھ رہے ہیں کئی جگہ حاکم ہی ہیں، حکمران ہی ہیں جو عوام کے لئے عذاب بنے ہوئے ہیں۔ماتحتوں کے حق