خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 151
خطبات مسرور جلد 11 151 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 مارچ 2013ء کرتا ہے وہ ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر نامراد رہ سکے بلکہ وہ خوشحالی جو نہ صرف دولت سے مل سکتی ہے اور نہ حکومت سے اور نہ صحت سے بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے جس پیرا یہ میں چاہے وہ عنایت کر سکتا ہے۔ہاں وہ کامل دعاؤں سے عنایت کی جاتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے تو ایک مخلص صادق کو عین مصیبت کے وقت میں دعا کے بعد وہ لذت حاصل ہو جاتی ہے جو ایک شہنشاہ کو تخت شاہی پر حاصل نہیں ہوسکتی۔سواسی کا نام حقیقی مراد یابی ہے جو آخر دعا کرنے والوں کو ملتی ہے۔ایام اصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 237) دعا کرنے والے کو جو لذت ملتی ہے وہ مشکل کے وقت میں ہی مل سکتی ہے۔فرمایا کہ جو ایک بادشاہ کو نہیں مل سکتی۔پس یہ دعا کی حقیقت ہے اور جیسا کہ میں نے کہا یہ اس کی مختصر فلاسفی ہے۔یہ دعا کی روح ہے اور ایک حقیقی مومن کی یہ سوچ ہے اور ہونی چاہئے اور ہمیں اسے ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے۔پس جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ دعا کی قبولیت کے لئے دعا کو کمال تک پہنچانا ضروری ہے۔اور اس مقام تک پہنچ کر یا تو دعا قبول ہو جاتی ہے جو انسان اللہ تعالیٰ سے مانگ رہا ہے، اُس کی قبولیت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں یا پھر دل کی ایسی تسلی اور سکینت ہوتی ہے کہ انسان کا جو غم ہے جس وجہ سے دعا مانگ رہا ہے، وہ ختم ہو جاتا ہے، وہ دور ہو جاتا ہے۔ایک خاص قسم کا سکون ملتا ہے کہ اب جو بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک میرے لئے بہتر ہو گا وہ ظاہر ہوگا۔یہ سوچ ہے جو ایک حقیقی مومن کی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ مقام حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ توفیق بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہے۔اس لئے اس کے حصول کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے۔اس وقت میں دو قرآنی دعاؤں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جیسا کہ میں نے کہا یہ دعائیں ان آیات میں ہیں۔ہم پڑھتے بھی ہیں۔بہت سے جانتے بھی ہیں۔ان میں سے ایک دعا ہے کہ ربنا اتنا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة:202) کہ اے ہمارے ربّ! ہمیں اس دنیا میں بھی حسنہ عطا فرما اور آخرت میں بھی۔یہ دعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاص طور پر پڑھا کرتے تھے۔(صحیح البخاری کتاب الدعوات باب قول النبي ربنا اتنا فى الدنيا حسنة حديث 6389) اور صحابہ کو بھی اس طرف توجہ دلائی اور صحابہ بھی خاص توجہ سے پڑھا کرتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبة جلد 7 صفحه 52 كتاب الدعا باب من كان يحب۔۔۔حديث 3 مطبوعہ دارالفکر بیروت)