خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 150

خطبات مسرور جلد 11 150 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 مارچ 2013ء یہ دو قرآنی دعائیں ہیں جن کے بارے میں میں کچھ کہوں گا لیکن اس سے پہلے دعا کی حقیقت کیا ہے؟ اُس کی فلاسفی کیا ہے؟ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پڑھتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ : جو شخص مشکل اور مصیبت کے وقت خدا سے دعا کرتا ہے اور اس سے حلت مشکلات چاہتا ہے وہ بشرطیکہ دعا کو کمال تک پہنچا دے خدا تعالیٰ سے اطمینان اور حقیقی خوشحالی پاتا ہے۔اور اگر بالفرض وہ مطلب اس کو نہ ملے تب بھی کسی اور قسم کی تسلی اور سکینت خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو عنایت ہوتی ہے۔اور وہ ہرگز ہرگز نامراد نہیں رہتا۔اور علاوہ کامیابی کے ایمانی قوت اس کی ترقی پکڑتی ہے اور یقین بڑھتا ہے۔لیکن جو شخص دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف مونہ نہیں کرتا وہ ہمیشہ اندھار ہتا ہے اور اندھامرتا ہے“۔فرمایا ” ہماری اس تقریر میں اُن نادانوں کا جواب کافی طور پر ہے جو اپنی نظر خطا کار کی وجہ سے ( یعنی غلط سوچ رکھنے اور ظاہری طور پر دیکھنے کی وجہ سے) یہ اعتراض کر بیٹھتے ہیں کہ بہتیرے ایسے آدمی نظر آتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ اپنے حال اور قال سے دعا میں فنا ہوتے ہیں (یعنی اُن کی اپنی حالت بھی یہ ہوتی ہے، اور کہتے بھی یہی ہیں کہ دعا کر رہے ہیں اور دعا کی کیفیت بھی ہوتی ہے، اُس میں فنا ہوتے ہیں ) ” پھر بھی اپنے مقاصد میں نامرادر ہتے اور نامراد مرتے ہیں۔“ ( یعنی اُن کے مقاصد، جو وہ چاہتے ہیں، اُن کو نہیں ملتے ) اور بمقابل ان کے ایک اور شخص ہوتا ہے کہ نہ دعا کا قائل نہ خدا کا قائل وہ ان پر فتح پاتا ہے۔“ (یعنی اُس کو سب کچھ مل جاتا ہے اور بڑی بڑی کامیابیاں اس کو حاصل ہوتی ہیں۔سو جیسا کہ ابھی میں نے اشارہ کیا ہے۔اصل مطلب دعا سے اطمینان اور تسلی اور حقیقی خوشحالی کا پانا ہے۔( ظاہر بین تو یہ دیکھتا ہے کہ ایک شخص جس مقصد کے لئے دعا کر رہا تھا اُس کو حاصل نہیں ہوئی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک تو پہلی شرط یہ رکھی ہے، دعا کو کمال تک پہنچانا۔اور جو حقیقت میں دعا کرتا ہے وہ صرف ظاہری چیز کو نہیں دیکھتا۔جو مومن ہے، جس میں مومنانہ فراست ہے جو خدا تعالیٰ کے تعلق کو جانتا ہے وہ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ میں جو مانگ رہا ہوں مجھے مل گیا بلکہ فرمایا کہ اطمینان اور حقیقی خوشحالی پاتا ہے۔) فرمایا : ” اور یہ ہرگز صحیح نہیں کہ ہماری حقیقی خوشحالی صرف اُسی امر میں میسر آ سکتی ہے جس کو ہم بذریعہ دعا چاہتے ہیں۔بلکہ وہ خدا جو جانتا ہے کہ ہماری حقیقی خوشحالی کس امر میں ہے؟ وہ کامل دعا کے بعد ہمیں عنایت کر دیتا ہے۔(اگر دعا کامل ہو، صحیح ہو، حقیقی رنگ میں ہو، اللہ تعالیٰ کے کہنے کے مطابق ہو تو اللہ تعالیٰ جو سمجھتا ہے کہ حقیقی خوشحالی کس چیز میں ہے، وہ عطا فرما دیتا ہے ) فرمایا کہ ”جو شخص روح کی سچائی سے دعا