خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 135

خطبات مسرور جلد 11 135 9 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز رحم فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء بمطابق یکم امان 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا آمَرَ اللهُ بِه أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الحساب (الرعد : 22) اور وہ لوگ جو اسے جوڑتے ہیں جسے جوڑنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب سے خوف کھاتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُن تعلقات کے جوڑنے کا فرمایا ہے جن کے جوڑنے کا صرف یہ حکم نہیں کہ جوڑنا ہے بلکہ قائم رکھنے کا حکم فرمایا ہے۔تعلقات جوڑے اور پھر قائم رکھے۔یعنی ایک مومن ،ایک حقیقی مومن جسے اللہ تعالیٰ نے مومنانہ فراست بخشی ہے، اس بات کا تصور ہی نہیں کر سکتا ہے کہ وہ ایسے کام کرے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہوں۔پس جب وہ ایک حقیقی مومن ہے، اللہ تعالیٰ سے ایک دفعہ تعلق جوڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق اُن تعلقوں کو جوڑتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں تو پھر اُن پر دوام اختیار کرتا ہے۔فرمایا کہ ایک صاحب عقل اور حقیقی مومن کی نشانی یہ ہے کہ يَصِلُونَ مَا آمَرَ اللهُ ية أن يُوصَلَ۔یعنی وہ اُن تعلقات کو قائم کرتے ہیں جن کے قائم کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حصہ آیت کی وضاحت کرتے ہوئے خلاصہ اس طرح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور محبت میں کمال حاصل کر کے اُس کے حکم اور اُس کی ہدایت کے ماتحت مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور مخلوق سے رشتہ اتحاد و اخوت اور احسان جوڑتے ہیں۔پھر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور محبت کا کمال اس لئے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ويخشون