خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 136
خطبات مسرور جلد 11 136 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ کہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور بڑے حساب سے خوف رکھتے ہیں۔اپنے رب کی خشیت دل میں رکھتے ہیں۔اور خشیت لغت میں کسی اعلیٰ صفات والی چیز کے کمال وحسن کو پہچاننے کے بعد اُس کے ہاتھ سے جاتے رہنے کے خوف کو کہتے ہیں۔کہیں میرے ہاتھ سے نکل نہ جائے۔یعنی خشیت اُس وقت بولا جاتا ہے جبکہ اُس چیز کی معرفت حاصل ہو جس سے خوف کیا گیا ہے۔نیز خوف نقصان یا ضرر کا نہ ہو بلکہ اس وجہ سے ہو کہ انسان یقین کرے کہ وہ چیز نہایت اعلیٰ اور عظمت والی ہے۔ایسا نہ ہو کہ اپنی غفلت کی وجہ سے اُس کا قرب کھو بیٹھوں اور ایک مومن کے نزدیک زمین و آسمان میں سب سے اعلیٰ اور عظمت والی چیز خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 3 صفحہ 409) پس اس کے علاوہ نہ کوئی چیز ہے اور نہ کوئی ہو سکتی ہے۔جیسا کہ پہلے بیان ہوا تھا کہ مومن اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے اُس کی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے، یہی ایک مومن کی نشانی ہے۔پس یہ خشیت اور برے حساب کا خوف ایک مومن کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور مخلوق کے حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے دامن گیر ہوتی ہے اور ہونی چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا یہی مومن کی نشانی ہے۔وہ یہ برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ اُس سے ناراض ہو، اُس کو دھتکار دے۔عموماً یہی کہا جاتا ہے بلکہ ایک حقیقی مومن نہ بھی ہو، تھوڑا سا بھی ایمان ہوتو وہ یہی چاہتا ہے لیکن دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے ہیں جو قرآنِ کریم پڑھتے ہیں، اُس کا ترجمہ بھی پڑھتے ہیں، خدا تعالیٰ کے خوف کا اظہار بھی کرتے ہیں۔وہ کبھی یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دھتکارے جائیں لیکن اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حق ادا نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کو جوڑنے کا حکم دیا ہے، اُن کو حقیقی رنگ میں جوڑنے کی کوشش نہیں کرتے۔یہ تضاد ہے جو دنیا میں اکثر مسلمانوں کی اکثریت میں نظر آتا ہے۔ایک خواہش اور دعویٰ کے باوجود نظر آتا ہے۔اور احمدیوں کے بارے میں بھی ہم سو فیصد نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس تعریف کے اندر آتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مومن کی بتائی ہے۔پس ہمیں بھی اس بارے میں اپنے جائزے لیتے رہنا چاہئے۔اس وقت میں صرف مسلمانوں کے اوصاف میں سے بھی صرف ایک وصف کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بڑا واضح ارشاد ہے کہ مسلمان کی کیا خصوصیت ہے اور اس میں یہ ہونا چاہئے۔مومن کی خصوصیت میں سے یہ ایک بہت بڑی خصوصیت ہے جو بیان فرمائی گئی ہے۔اس کے بارے میں پہلے میں عمومی طور پر مسلمان ممالک کے حوالے سے کچھ کہوں گا جہاں علماء اور حکمرانوں نے اسلام اور ایمان کے نام پر اس فرض یا خصوصیت کی پامالی شروع کی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ