خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 126
خطبات مسرور جلد 11 126 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء نے اُن کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی۔حضرت عبد الرحمن بن عوف جو نہایت ہی بہادر اور تجربہ کارسپاہی تھے، کہتے ہیں کہ اُس دن ہمارے دلوں کے ولولے کوئی شخص نہیں جان سکتا۔ہم سمجھتے تھے کہ آج جبکہ خدا نے ہمیں لڑنے کی اجازت دے دی ہے، ہم مکہ والوں سے ان مظالم کا بدلہ لیں گے جو انہوں نے ہم پر کئے۔مگر کہتے ہیں کہ اچھا سپا ہی تبھی اچھا لڑ سکتا ہے جب اس کا دایاں اور بایاں پہلو مضبوط ہو۔( وہاں بھی کوئی اچھے لڑنے والے موجود ہوں۔جب وہ حملہ کرے اور دشمنوں کی صفوں میں گھس جائے تو وہ دونوں اس کی پشت کو دشمنوں کے حملے سے محفوظ رکھیں۔اس لئے بہادر سپاہی ہمیشہ درمیان میں کھڑے کئے جاتے ہیں تا اُن کے دائیں بائیں حفاظت کا خاص سامان رہے اور جب وہ دشمن کی صف کو چیر کر آگے بڑھیں تو اُن کی پیٹھ کی حفاظت ہوتی رہے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے اسی خیال کے ماتحت اپنے دائیں بائیں دیکھا کہ دیکھوں میرے دائیں بائیں کون ہے؟ کہتے ہیں میری جو نظر پڑی تو میں نے دیکھا وہی دو انصاری لڑکے پندرہ پندرہ سال کی عمر کے میرے دائیں بائیں کھڑے تھے۔اول تو یہ مدینہ کے رہنے والے ہیں۔کہتے ہیں مجھے خیال ہوا، دل بیٹھ گیا۔۔۔۔جہاں کے لوگ لڑائی کے فن سے نا آشنا ہیں۔پھر یہ پندرہ پندرہ سال کے لڑکے ہیں۔انہوں نے میری کیا حفاظت کرنی ہے۔تو آج میرے دل کے جوش کی جو حالت ہے وہ دل میں ہی رہے گی اور میں اپنی حسرت نہیں نکال سکوں گا۔بہر حال اس کا خلاصہ بیان کر دیتا ہوں۔کہتے ہیں کہ یہ خیال ابھی میرے دل میں آرہا تھا کہ مجھے دائیں طرف سے میرے پہلو میں کہنی لگی میں نے مڑ کر اُس لڑکے کی طرف دیکھا کہ وہ مجھے کیا کہنا چاہتا ہے۔وہ اپنا منہ میرے کان کے قریب لایا اور اُس نے آہستگی سے مجھے کہا کہ چا وہ ابوجہل کونسا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دُکھ دیا کرتا تھا۔میرا دل چاہتا ہے آج اُس سے بدلہ لوں۔ابھی کہتے ہیں میں نے اُس کا جواب دینا ہی تھا تو دوسری طرف سے مجھے ایک گہنی لگی اور اُس نے بھی میرے کان کے قریب اپنا منہ لاکر کہا کہ چاوہ ابوجہل کونسا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دیا کرتا تھا۔میرا دل چاہتا ہے کہ آج اُس سے بدلہ لوں۔آپ کہتے ہیں کہ میرے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ ابو جہل جو سر دار ہے اور لشکر کے درمیان میں ہے اس کے بڑے گہنہ مشق ، جنگجو قسم کے لوگ اُس کے ساتھ کھڑے ہوں گے کہ اُس تک میں پہنچوں اور قتل کروں۔لیکن ان بچوں کو یہ خیال آ گیا۔بہر حال کہتے ہیں میں نے اشارہ کیا اور دونوں بچوں کی خواہش تھی کہ میں ہی اس نعمت کو بجالاؤں یعنی یہ انعام مجھے ہی ملے کہ میں ابو جہل کو قتل کرنے والا بنوں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوف کی تو یہ حالت تھی کہ وہ پریشان تھے مگر ان کو یہ